بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

’’سرکاری وسائل کا سیاسی استعمال غیر قانونی قرار‘‘ عدالت کا بڑا فیصلہ

datetime 9  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پشاور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں سرکاری وسائل اور ملازمین کے سیاسی استعمال کو خلافِ قانون قرار دے دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے سیاسی جلسوں میں حکومتی وسائل کے استعمال کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری مشینری، عملہ اور وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ کی جانب سے تحریر کردہ 28 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پُرامن احتجاج جمہوری نظام کا حصہ اور عوامی رائے کے اظہار کا ایک ذریعہ ضرور ہے، تاہم سرکاری وسائل پوری عوام کی امانت ہوتے ہیں اور ان کا غلط استعمال قابلِ قبول نہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ وزیراعلیٰ صوبے کے وسائل کے محافظ ہوتے ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا درست استعمال یقینی بنائیں۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ معاشی حالات میں سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔مزید کہا گیا کہ سرکاری ملازمین اور مشینری صرف عوامی فلاح و بہبود اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے استعمال ہونی چاہیے، جبکہ اختیارات سے تجاوز قانونی اور اخلاقی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

عدالت نے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام سرکاری اداروں کو قانون کے مطابق کام کرنے کا پابند بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی محکمہ سرکاری وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔اسی طرح آئی جی خیبرپختونخوا کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ پولیس کو کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر اس فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا تو متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…