ہفتہ‬‮ ، 18 جولائی‬‮ 2026 

29 بڑے شہروں کا پانی آلودہ نکلا، فیصل آباد کا 59 فیصد پانی پینے کے لیے غیرمحفوظ پایا گیا

datetime 19  جنوری‬‮  2022 |

مکوآنہ (این این آئی )پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز ( PCRWR)کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے 29 بڑے شہروں کا پانی پینے کے لیے غیرمحفوظ ہے۔ ملک میں پینے کے پانی کے تمام ذرائع کا اوسطاً 61 فیصد پانی جراثیم سے آلودہ ہوچکا ہے۔ صوبہ سندھ کے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے نام پر بسائے گئے شہر بے نظیرآباد سمیت میرپور خاص اور گلگت کا

سو فیصد پانی جراثیم سے آلودہ اور پینے کے قابل نہیں جبکہ ملتان کا 94 فیصد، کراچی کا 93 فیصد، بدین کا 92 فیصد، حیدر آباد کا 80 فیصد اور اور بہاولپور کا 76 فیصد پانی پینے کے لیے محفوظ نہیں ہے۔وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2020-21 میں ملک کے 29 بڑے شہروں کے پینے کے پانی کے مختلف ذرائع سے نمونہ جات لے کر ٹیسٹ کیے تو معلوم ہوا ہے کہ ملک کا 61 فیصد پانی جراثیم زدہ اور پینے کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب کے شہروں بہاولپور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، قصور لاہور ملتان، راولپنڈی، سرگودھا، شیخوپورہ، خیبر پختونخوا کے شہروں ایبٹ آباد، مینگورہ، مردان، پشاور، بلوچستان کے شہروں خضدار، لورالائی، کوئٹہ، سندھ کے بڑے شہروں حیدر آباد، کراچی، بدین، سکھر، میرپور خاص، ٹنڈو الہ یار، بے نظیر آباد جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلستان کے دارالحکومتوں مظفرآباد اور گلگت سے پانی کے نمونہ جات لے کر ان کا تجزیہ کیا گیا تو 435 نمونہ جات میں 168 یعنی 39 فیصد نمونہ جات پینے کے لیے محفوظ پائے گئے۔دوسری جانب 267 نمونہ جات یعنی 61 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں پایا گیا۔ جن بڑے شہروں سے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، ان میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 24 نمونے لیے گئے جن میں 17 محفوظ جبکہ سات غیرمحفوظ پائے گئے۔ فیصل آباد کا 59 فیصد پانی پینے کے لیے غیرمحفوظ پایا گیا جہاں سے 22 میں 13 نمونہ جات میں جراثیم پائے گئے۔ سرگودھا کے 83 فیصد نمونہ جات میں جراثیم اور صحت کے لیے نقصان دہ دھاتیں پائی گئیں۔ لاہور کا 31 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں پایا گیا۔ پشاور کا 50 فیصد، ایبٹ آباد کا 55 فیصد، خضدار 55 فیصد، لورالائی 59 فیصد اور کوئٹہ کا 65 فیصد پانی آلودہ اور پینے کے قابل نہیں ہے۔ اسی طرح سکھر کا 67 فیصد، مردان کا 45 فیصد، گوجرانوالہ کا 50 فیصد اور شیخوپورہ کا 50 فیصد پانی پینے کے لحاظ سے غیرمحفوظ پایا گیا ہے۔ جن جن شہروں کے پانی کے نمونے لے کر تجزیہ کیا گیا، ان میں صرف گجرات اور سیالکوٹ ایسے شہر ہیں جن کے تمام نمونہ جات کے مطابق وہاں کا 100 فیصد پانی پینے کے لیے محفوظ ہے۔ گجرات اور سیالکوٹ سے 9،9 نمونہ جات لیے گئے اور وہ تمام محفوظ پائے گئے جبکہ قصور کے 10 میں سے 9 نمونہ جات جراثیم سے محفوظ پائے گئے ہیں۔تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پانی کی آلودگی کے معاملے میں سندھ میں صورت حال تشویش ناک ہے جہاں تمام تر کوششوں کے باوجود اب بھی 85 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…