’’ حکومت نے جو کام کئے مجھے نہیں لگتا نصیب میں جیت ہے‘‘ 4گھنٹے بعد جو دھماکہ ہوگا لوگ 28مئی کو بھی بھول جائیں گے ، اختر مینگل کا حیران کن دعویٰ

  بدھ‬‮ 3 مارچ‬‮ 2021  |  10:47

کوئٹہ(آن لائن )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے کہاہے کہ اپوزیشن سرپرائز میں ایسا دھماکہ کریگی کہ لوگ 28مئی کا دھماکہ بھول جائیںگے ،ہمیں اقتدار کی بھوک نہیں اور نہ ہی مسئلہ سیٹوں کا ہے اصل مسئلہ آئین کی بالادستی اور قومی برابری کاہے ،حکمرانوں نے طاقت کے ذریعے مخالفین کو دبائو میں لانے کی کوششیں کی لیکن ناکام رہیں ، ہمیں سیاست سےدور رکھنے کی کوشش کی گئی جمہوری پروسس سے دور ہٹانے کی کوشش کی گئی بلوچستان کے جملہ حقوق کی بات کرنے پر لاشیں تحفے میں اور پابند سلاسل کیا گیا،حکمرانوں نے مسائل کے حل


کی بجائے اپنے اقتدار کو تحفظ دینے کی کوشش کی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایم پی اے ہاسٹل میں شمولیتی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹرڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، ملک نصیر احمد شاہوانی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ، اختر حسین لانگو، ثنا بلوچ، بابو رحیم مینگل، احمد نواز بلوچ، زینت شاہوانی،شکیلہ نوید، میر اکبر مینگل، حمل کلمتی، ٹائٹس جانسن ،سینیٹ امیدوار ساجد ترین ایڈووکیٹ و دیگر بھی موجود تھے۔ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ ہمیں سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی جمہوری پروسس سے دور ہٹانے کی کوشش کی گئی جملہ حقوق کی بات کرنے پر لاشیں تحفے میں اور پابند سلاسل کیا گیا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں قبرستان نہ ہوں سیاسی ورکروں نے مشکل حالات میں سیاست کا عالم بلند کیا ملکی صورتحال سے میڈیا بخوبی واقف ہیں مہنگائی پرانا لفظ ہے جس کیلئے ہمیں عجیب لفظ ڈھونڈنا ہوگا مہنگائی نے عوام کو کفن پہنانے تک مجبور کیا حکمرانوں نے اقتدار بچانے کیلئے آئینی ترامیم کئے لیکن عوام کیلئے کچھ نہیں کیا مہنگائی کنٹرول ہیں نہ مسائل کم ہوئے لوگ کوئٹہ میں کئی دنوں تک اپنے پیاروں کی لاشوں کے ہمراہ سراپا احتجاج ہے یہ وہ خطہ ہے جہاں اجتماعی قبریں ملی لیکن آئین کے پاسبان ہمیں یہ نہیں بتا سکے کہ ان لاپتہ افراد کے پیچھے کون لوگ ہیں ان نامعلوم لوگوں کو سلیمانی ٹوپی پہنائی گئی جو کسی کو نظر نہیں آتے ۔ حکومت میں شامل جماعت کے رہنما کو اغوا کیا اور مہینوںبعد لاش ملی ہم صرف مذمت ہی کر سکے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں خلائی مخلوق کے ذریعے پارٹیاں بنانے کا سلسلہ روک کرحقیقی سیاسی لوگوں کو آگے لانے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں یہاں تو راتوں رات پارٹیاں بن جاتی ہے جن کے نہ باپ کا پتہ ہے کہ بچے کون ہے اور نہ بچوں کو پتہ ہے کہ باپ کون ہے ،صحافیوں کے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ سندھ میں ایم پی ایز کو اغوا کیا جاتا ہے یہاں تو خواتین اور بچوں کو نہیں بخشا جاتا ہے لاپتہ افراد کا مسئلہ سب کے سامنے ہے،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اپوزیشن متحد ہیں اور اپوزیشن نے ہمیشہ سرپرائز دیاہے 24 گھنٹے بعد جو دھماکہ ہوگا لوگ28مئی کا دھماکہ بول جائیں گے،بلوچستان میں پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ رابطے کررہی ہے جام کمال کے رابطے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جام کمال کو کسی نے بتایاہوگا کہ یہ پاگل آپ کا رشتہ دار ہے اس لئے رابطہ کیا،انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جو بلوچستان کی حقیقی جماعتیں ہیں کو اقتدار کی بھوک نہیں اگر بھوک ہوتی تو ہم سب سے پہلے وہاں بیٹھ جاتے یہاں سیٹوں کا مسئلہ نہیں ہے اگر مسئلہ ہے تو وہ آئین کی بالادستی اور اقوام کی برابری کا ہے ،ہار اور جیت اللہ کے ہاتھ میں ہے حکومت کے کاموں سے اندازہ لگائیں تو ایسا نہیں لگتا کہ وہ مزید کامیاب ہوسکیںگے ،انہوں نے کہاکہ رکن اسمبلی سید احسان شاہ کے علاوہاور بہت سے لوگ ہیں ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حمزہ شہباز کی گرفتاری رہائی عدالت کے ذریعے ہوئی ہے ،انہیں قید و بند میں رکھا گیا حکومت اپنے مخالفین کو اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے دبائو میں لانے کی کوشش کررہی ہے ،سید یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کی کامیابی سے متعلق سوال کے جواب میں سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہمیں لگتاہے کہ حفیظ شیخ کا بوریا بستر گول ہوگا۔اس سے قبل بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کی سینیٹ امیدوار برائے خواتین نشست نسیمہ احسان شاہ نے بی این پی بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں بی این پی (عوامی )سے مستعفی ہو کر بی این پی مینگل میں شمولیت کااعلان کیا۔


زیرو پوائنٹ

اللہ ہی رحم کرے

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎