منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک عدم اعتماد لانے کا شوق پورا کر لیں، حکومت نے پی ڈی ایم کو چیلنج دے دیا

datetime 31  جنوری‬‮  2021 |

ملتان(آن لائن)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ براڈ شیٹ معاہدہ کب ہوا؟ کس نے کیا؟ پی ٹی آئی اس کی ذمہ دار نہیں، جب انکوائری کمیشن بیٹھے گا تو سب کچھ بے نقاب ہو جائے گا،باشعور عوام نے پی ڈی ایم کو مسترد کردیا ہے، حکومت کو پی ڈی ایم سے کوئی خطرہ نہیں، عدم اعتماد کی تحریک لانے کا شوق بھی پورا

کرلے، ہم اور ہمارے حلیف اس کا مقابلہ کریں گے،ڈھائی سالوں میں سفارتی سطح پر کامیابیاں ملیں، چین سے آنیوالی ویکسین خود وصول کروں گا، فرنٹ لائن ورکرز کو سب سے پہلے ویکسین لگائی جائے گی۔ڈینیل پرل کے معاملے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی۔ان خیالات کا اظہار وزیرخارجہ نے ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پی ڈی ایم حکومت کو گھر بھیجنے چلی تھی اور اب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، پی ڈی ایم کے غیر فطری اور مصنوعی اتحاد کی قلعی کھل چکی ہے، اپوزیشن کے اندر خاصی بے چینی ہے۔ اس کا شیرازہ بہت جلد بکھرنے کو ہے۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم میں جتنی جماعتیں اتنے بیانیے، ان میں کوئی یکسوئی نہیں، اپوزیشن اتحاد کا موقف تضادات سے بھرا ہوا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ باشعور عوام نے پی ڈی ایم کے کھوکھلے نعروں اور جلسے جلوس کی احتجاجی سیاست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں، پارلیمنٹ میں عدم اعتماد تحریک لانے کا شوق پورا کرلے۔ ہم اور ہمارے حلیف تحریک عدم اعتماد کا سیاسی، جمہوری اور پارلیمانی انداز میں مقابلہ کریں گے اور انہیں شکست دیں گے،انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ کے حوالے سے ہم چاہتے ہیں کہ شفاف تحقیقات ہوں۔ براڈ شیٹ معاہدہ کب ہوا؟ کس

نے کیا؟ پی ٹی آئی اس کی ذمہ دار نہیں ہے۔ جب انکوائری کمیشن بیٹھے گا تو سب کچھ بے نقاب ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سفارتی سطح پر پچھلے ڈھائی سالوں میں ہمیں بہت سی کامیابیاں ملی ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ مہنگائی کی ذمہ دار مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت ہے جس نے معیشت کیلئے بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں، جن کو پی ٹی آئی حکومت صاف کررہی ہے اور اب معیشت بہتری کی جانب گامزن ہو چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ عوام کو اگلے چند ماہ میں مہنگائی سے کچھ چھٹکارہ ملے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…