اسلام آباد (آن لائن ) پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے ملک بھر سے آنے والے سرکاری ملازمین کا تنخواہوں میں اضافے اور ملک میں شدید مہنگائی کے خلاف احتجاجی دھرنا،پارلیمنٹ کے داخلی راستوں کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے ،احتجاجی مظاہرین کی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی ،مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا دینے کا اعلان ۔منگل کے روز وفاقی دارلحکومت کے ریڈ زون میں ملک بھر سے
آنے والے سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات کیلئے احتجاجی دھرنا دیا مظاہرہ ڈی چوک سے شروع ہوا جس کے بعد مظاہرین نے پارلیمنٹ ہائوس کی سمت جانے والے راستوں سے رکائوٹیں ہٹا دی اور پارلیمنٹ کے مین گیٹ کے سامنے پہنچ گئے احتجاجی دھرنے میں اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سابق اور موجودہ سینیٹرز اور دیگر اراکین اسمبلی بھی پہنچ گئے اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہاکہ یہ حکومت ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے، سرکاری ملازمین 7 سال سے تنخواہوں میں اضافے کے منتظر ہیں، اب سیاستدانوں نے اعلان جنگ کر دیا ہے، جب تک پاکستان کواس ظالم حکومت سے نجات نہیں ملتی جدوجہد جاری رکھیں گے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ووٹ کی عزت کا مطلب ہے عوام کی عزت، ہم اسمبلی میں سرکاری ملازمین کی آواز بنیں گے اور ووٹ کی عزت جب تک بحال نہیں ہوتی جدوجہد جاری رہے گی۔؎اس موقع پر سینیٹر میرکبیرشاہی کا کہنا تھاکہ اس حکومت نے کم سے کم تنخواہ 12 ہزار رکھی اور بل 22 ہزار آتا ہے،موجودہ حکومت نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ ملازمین کا گلا گھونٹنا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ یہ کہتے تھے کہ ایک کڑوڑ نوکریاں دیں گے،انہیں شرم آنی چاہیے عوام کا چولہا ٹھنڈا پڑا ہے،جب غریب باہر نکلے گا تو بنی گالا کے وارث کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔نے کی پالیسی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا ئے گااحتجاجی ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے
صدرشمس الر حمن سواتی نے کہا روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں نے عوام سے روٹی کپڑا اور مکان چھین لیا ہے ، انھوں نے کہا 35سال ووٹرز کا استحصال کر نے والے آج ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا رہے ہیں، جبکہ تبدیلی کا نعرہ لگا نے والوں نے قوم کی اقدار تبدیل کر دی ہیں، آج عوام اس تبدیلی سے نجات کی دعائیں ما نگ رہے ہیں ، انھوں نے کہا ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک
سے بائیس اسکیلز کو ختم کر کے صرف سات اسکیل بنائے جا ئیں انسانوں میں تفاوت کو ختم کیا جا ئے ، ملازمین کی تمام تنظیمیں متحد ہو کر اس ملک میں ظلم کے نظام کے نظام کو ختم کر نے کی جدو جہد کے لیے متحد ہو جا ئیں اور صرف حضور? کی لیڈشپ کو ماننے والوں کا ساتھ دیں ، شمس الر حمن سواتی نے کہا 73 سالوں سے مسلط سر مایہ دارانہ اور جا گیر دارانہ افسر شاہی تو لے کو
مسترد کر دیں ،73کے آئین میں انسانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے ، مگر اس کے بعد ہماری پارلیمنٹ ،مزدورں ،ملازمین اور پسے ہو ئے طبقے کو بھول گئی ہے پاکستان کے حکمران بیورو کریسی ، جو ڈیشری اور جر نیل لاکھوں روپے تنخواہیں لینے کے باجود شکوہ کر تے ہیں کہ ہمارا گزارہ نہیں ہو تا ، جبکہ مزدور اور ملازمین کو آٹھ دس ہزار روپے دے کر اْن سے زندہ باد کے نعروں کی توقع رکھتے ہیں۔