ایک سال سے طلال چوہدری کا عائشہ رجب کے گھر آنا جانا تھا ہمیشہ طلال رات کو کس وقت آتے تھے؟ علاقہ مکینوں کے لیگی رہنما سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات

  اتوار‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2020  |  12:31

اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)سابق وزیر مملکت برائے داخلہ اورن لیگ کے رہنما طلال چوہدری کے جھگڑے کے حوالے سے علاقہ مکینوں کا موقف بھی سامنے آگیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کاگزشتہ ایک سال سے اس گھر میں آنا جا تھا ، وہ پہلے ہمیشہ رات کو بارہ بجے سے پہلے آتے تھے ، تاہم واقعے کے روز رات دو بج کر چالیس منٹ پر آئے ، جبکہ ان کی گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈ سے بھی تلخ کلامی ہوئی کیونکہ گارڈ نے کہا تھا کہ پہلے


اہلخانہ سے اس کی بات کروائی جائے پھر وہ انہیں جانے دیں گے لیکن طلال چوہدری نے گارڈ کی بات نہ مانی اور زبردستی اندر آگئے ، تاہم جیسے ہی وہ گھر میں گئے تو ان کا جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں وہ فوری باہر آئے اور اپنے پرائیویٹ گارڈ کو پکارا ۔دوسری جانب طلال چوہدری نے کہا ہے کہ مجھ سے متعلق ذرائع سے چلنی والی خبریں حقائق پر مبنی نہیں ،واقعہ کے بارے میں تفصیلی موقف جاری کروں گا ،میڈیا سے درخواست ہے کہ میرے موقف کا انتظار کرے۔ طلال چوہدری نے اپنی وضاحت میں کہاکہ درخواست ہے کہ میرا موقف سامنے آنے تک ایسی خبریں نہ دی جائیں جن سے غلط فہمیاں اور رنجشیں پیدا ہوں ۔ واقعہ کا کسی خاتون رکن قومی اسمبلی سے کوئی تعلق نہیں ،میڈیا سے درخواست ہے کہ خواتین سے متعلق خانگی نزاکتوں کا احساس کرے ،سب مائوں بہنوں بیٹیوں کی عزت اور وقار کا خیال رکھا جائے ،بعض حکومتی لوگوں کا واقعہ کو سیاسی رنگ دینا قابل مذمت ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎