عمران خان کی حکومت کے پاس چار پانچ عینک والے جن وزیر ہیں جو ا نتہاء سے زیادہ مزاحیہ ہیں، سینیٹر مولا بخش چانڈیو کی دھماکہ خیز باتیں

  منگل‬‮ 7 جولائی‬‮ 2020  |  23:56

حیدرآباد(این این آئی)پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سینیٹر مولا بخش چانڈیونے کہاہے کہ عمران خان کی حکومت کے پاس چار پانچ عینک والے جن وزیر ہے جو ا نتہاء سے زیادہ مزاحیہ ہیں اور ہر بات کو مذاق سمجھتے ہیں، پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کے نقشے پر سندھ موجود نہیں، پی ٹی آئی ایم کیو ایم کا متبادل بننے کی کوشش کررہی ہے، صرف دو سال کے عرصے میں یہ باتیں ہونے لگی ہیں کہ کوئی آئے اور حکومت کواس بحران سے نکالے، چور دروازے سے آکر حکومت کو اس بحران سے کوئی نہیں نکال سکتا اس کا


واحد حل جمہوریت ہے۔وہ قاسم آباد حیدرآباد میں اپنی رہائشگاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر صغیر قریشی ، جنرل سیکریٹری احسان ابڑو ، قاضی پاشا و دیگر بھی موجود تھے۔سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہاکہ ادھار پر لئے گئے وزیر عمران خان کی حکومت کو ہر گز نہیں بچاسکتے وزیر اعظم خوفزدہ ہے اگر غیبی ووٹ نہ ہوتے تو بجٹ پاس نہیں ہوسکتا تھا، انہوںنے کہاکہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی خود ان کے وزیر بات کررہے ہیں جس کی وجہ سے خود کہہ رہے ہیں کہ اب کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، انہوںنے کہاکہ شہری علاقوں میں دن بھر بجلی نہیں ہے عمران خان سندھ کے لوگوں کو پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے کی سزادے رہے ہیں، خدا کے لئے سندھ کے ساتھ تعصب بند کردیں، انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سندھ کے لئے کچھ نہیں رکھا گیا جبکہ مختلف فنڈز کی مد میں رکھے گئے پیسے بھی واپس نہیں کئے جارہے، انہوںنے کہاکہ کورونا کو مذاق سمجھنے والے اب روزانہ اپنی رپورٹ کرتے ہیں ملک میں کورونا کے متاثرہ مریضوں کی تعداد روزانہ بڑھ رہی ہے ان کے اعداد وشمار بھی جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں اس پر وہ وزیر اعلیٰ سندھ کے کورونا کے خلاف جدوجہد اور مہم کو مذاق قرار دیا کرتے تھے، انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم بزدل ہے اور وہ کس کو کہہ رہےہیں کہ اب کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، عذیر بلوچ کے ساتھ آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کہیں نہیں گئے، لیاری ہماراہے، انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم جائے گا تو اسمبلی بھی جائے گی ن لیگ والے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے ۔سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ قیامت کی اس گرمی میں حکمرانوں کی نا اہلی کے باعث شدید لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے نا صرف حیدرآباد بلکہ پورے سندھ میںلوگ گرمی سے بل بلا رہے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں پورے پورے دن لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے ، وفاقی حکومت سندھ سے بجلی کا مصنوعی بحران فوری طور ختم کرے، انہوں نے کہا کہ سندھ اور حیدرآباد کے عوام کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے یہ حکومت کہا کرتی تھی کہ ان کے پاس وافر مقدار میں بجلی موجود ہے تو وہ بجلی کہاں ہے، سندھ میں جو ادارے بجلی پیدا کر رہے ہیںاب یہ حکمران ان کے بھی پیچھے پڑے ہوئے ہیں یہچاہتے ہیں کہ یہ ادارے بھی بند ہو جائیں یہ لوگ چاہتے ہیں کہ سندھ کے پاس جووسائل موجود ہیں سندھ کو ان سے بھی محروم کردیا جائے، انہوں نے کہا کہ خان صاحب تکبر اچھی بات نہیں ہے عوام کی آہ و بکا آسمان تک ضرور پہنچے گی آپ کے کیے جانے والے اقدامات کے خلاف خود قدرت نوٹس لے رہی ہے، انہوں نے کہا کہ کورونا نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے مگر ہمارے حکمران اس کو مذاق بنا رہے ہیںپاکستان کے تمام ذرائع ابلاغ پاکستانمیں مریضوں کی تعداد میں اضافہ بتارہے ہیں اگریہ سچ ہے تو پھر آپ سنجیدہ نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ عوام کو آپ نے بہت تنگ کیا ہوا ہے ایک طرف کورونا ہے تو دوسری طرف آپ ہیں میرے مطابق یہ دونوںہی بیماریاں اور وبا ئی ہیں، انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں سندھ کے عوام کیلئے کوئی اسکیمیں نہیں رکھی گئی ،شاید ان کے سیاست کے نقشے میں سندھ وجود ہی نہیں رکھتا ،یہ صرف ایک مخصوص طبقہ کو فائدہ دینا چاہتے ہیں جبکہ اسحکومت نے تو ہمارے حصے کے شیئر دینے سے بھی انکار کر دیا ہے، یہ لوگوں کی ہر بات کو مذاق میں اڑا دیتے ہیںلوگ بیروزگار ہو رہے ہیں بچے بھوکے مر رہے ہیں اوریہ مذاق کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اب سمجھ چکی ہیں کہ یہ صرف اقتدار کوطول دینا چاہتے ہیں یہ اقتدار کو جتنا طویل بنائیں گے اتنا ہی ذلت کے ساتھ اتریں گے، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکمران پاکستان کے حکمران نہیں بننا چاہتے بلکہ یہ ایم کیو ایم کا متبادل بننا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس حکومت کی طرف سے کسی کو نہیں بخشا گیا بیورو کریسی سمیت میڈیا تک کے لوگوں کو بیروزگار کرا دیا گیا ابھی بھی انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل بند کروایا ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب یہ اشارہ آپ کسے دے رہے تھے کیا عوام کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ،آپ کسے ڈرا رہے تھے یہ آپ کا اپنا ڈر تھا، پاکستان اور اس کے عوام کے پاس بہت آپشنز ہیں۔


موضوعات: