جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ میں اٹھائے گئے کئی سوالات کا جواب ہمارے قانون میں موجود نہیں، معروف قانون دان نے آرمی ایکٹ و قانون میں ترمیم بارے اہم بات کر ڈالی

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)ماہر قانون دان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ وقانون میں ترمیم کی جانی چاہئے کیونکہ آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے جو سوالات سپریم کورٹ نے اٹھائے ہیں ایسے کئی سوالات کا جواب ہمارے قانون میں موجود نہیں،مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے قانون میں ترامیم کی گنجائش ہے اس سے قانون مزید مضبوط ہوتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ فروغ نسیم کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا جو پروسیجر عدالت میں پیش کیا گیا اس کے تحت ہی عدالت نے کمزوریوں کو اٹھایا اور میں سمجھتا ہوں کہ وزارت داخلہ کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ جو نوٹیفکیشن جاری ہوا اس پر غور کرتی۔انہوں نے کہا کہ فروغ نسیم کے علاوہ بھی کچھ لوگوں کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ اس پورے پراسس کو دیکھتے۔وزیراعظم سیکرٹریٹ کی بھی یہی ذمہ داری تھی اور اس معاملے میں کسی ایک شخص یا ادارے کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں آرمی چیف کی تعیناتی کا واضح طریقہ کار ہے کہ صدر مملکت آرمی چیف کی تعیناتی یا توسیع کرسکتے ہیں،یہ ان کا اختیار ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بدھ کی سماعت میں جو سوالات اٹھائے وہ درست ہیں اور ان سوالات کی گنجائش بنتی ہے جو موجودہ ہمارے قوانین ہیں،جن میں آرمی ایکٹ بھی ہے تاہم کئی سوالات ہیں جن کا جواب آرمی ایکٹ میں موجود نہیں ہے۔آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے سوال پر بریسٹر سیف نے کہا کہ پہلے ایسی صورتحال کبھی پیدا نہیں ہوئی مگر موجودہ حالات میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ان کی روشنی میں قانون میں ترمیم ہونی چاہئے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی ممکنہ صورتحال اگر پیدا ہو تو اس کے لئے قانونی طریقہ کار وضع ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ قانون اسی طرح کے واقعات سامنے آنے کے بعد ہی بنتا اور اپ ڈیٹ ہوتا ہے،پہلے ایسی کئی صورتحال قانون بنانے والوں کے ذہن میں نہیں ہوتی اور قانون میں گنجائش ہے کہ اس میں ترامیم کی جائے اور قانون میں ترامیم سے یہ مزید مضبوط ہوتا ہے نہ کہ اس سے قانون کو کوئی نقصان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ایاس نہیں کرتی تو صدر کے پاس آرڈیننس کا اختیار ہے وہ بھی ایسا کرسکتے ہیں اور صدر اگر آرڈیننس بناتا ہے تو پھر اس کی پارلیمنٹ سے توثیق لی جاسکتی ہے جس کے بعد وہ ایکٹ بن جاتا ہے لیکن اگر کوئی ایسا آرڈیننس ہو جو آئین کی کسی شق سے متصادم ہو یا انسانی حقوق کی پارلیمانی ہوتی ہو تو اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے،مگر یہاں پر کوئی ایسی صورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو جلد سے جلد حل ہونا چاہئے کیونکہ یہ معاملہ بہت حساس ہے اور آرمی اس سے متاثر ہورہی ہے اور ہمارا دفاع بھی متاثر ہوسکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…