اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

ایف اے ٹی ایف کی کمزوریاں دور کرنے میں کتنا عرصہ لگے گا؟پابندیاں لگیں تو کیا ہوگا؟سابق وزیرتجارت ڈاکٹر محمد زبیر نے انتباہ کردیا

datetime 20  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیر تجارت ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف جن کمزوریوں کی نشاندہی کر رہی ہے اسے درست کرنے میں تو 2 سال لگ جائیں گے۔ایک انٹرویومیں سابق وزیر تجارت ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی تفصیلی رپورٹ 230 صفحات پر مشتمل ہے اور اراکین اسمبلی اسے غور سے پڑھیں۔ اس میں جو کمزوریاں سامنے لائی گئی ہیں جس میں ہمارے اداروں کی کمزوریاں اور وہاں کام کرنے والے

افراد کی نالائقیوں کے بارے میں ذکر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف 35 ممالک کی آرگنائزیشن ہے جو چاہتا ہے ان کی بینکاری میں بلیک منی آ کر چھپ نہ جائے اسے وہ بے نقاب کرتے ہیں اور ان ممالک نے فنانشل نظام کو صاف کرنے کے اس میں شامل ممالک کو بھی درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اب پوری دنیا کی بینکاری آپس میں جڑ چکی ہے۔ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا کہ اگر ایف اے ٹی ایف پابندی لگاتی ہے تو پھر پاکستان کی تجارت پر فرق پڑے گا اور نگرانی سخت ہو جائے گی، جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو دھچکا لگے گا۔انہوں نے کہا کہ یہاں جن کمزوریوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے اس کو تو بہتر کرنے میں ڈیڑھ سے 2 سال لگ جائیں گے،ہمارے اداروں کو تو ابھی تک منی لانڈرنگ کی سمجھ ہی نہیں ہے۔ محمد زبیر نے کہاکہ پاکستان نے ایک کامیاب پروگرام آئی ایم ایف کے ساتھ ختم کیا تھا تاہم اب پھر شروع کر دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ شرح سود سے تو آپ کی کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی اور پاکستان اسی کھیل میں چلا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو شرح سود کم کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہم نے اپنے پیر پر خود کلہاڑی مارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شرح سود کو کم کرنے کے بجائے بڑھایا جا رہا ہے۔ ہمارے ملک میں

بینک سرکار سے ایک کھرب روپے کمائیں گے اس میں ملک کو تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے سامنے ساری باتیں لائی جاتی ہیں تاہم وہ اسے سنجیدہ نہیں لیتے۔ ہمارے حکمران اصلیت کو دیکھنا نہیں چاہتے اس لیے معاملات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے مسائل وزارت خزانہ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ ٹیکسوں کا نہیں ہے۔ مسئلہ پاکستانی حکومت کے اخراجات کا ہے جس میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہو رہا ہے جس میں سب سے بڑا مسئلہ

شرح سود کا ہے۔ شرح سود کے ہوتے ہوئے میں ہم بہتری کی جانب جا ہی نہیں سکتے۔سابق وزیر تجارت نے کہا کہ بجلی کے نظام میں بھی کرپشن موجود ہے جسے حکومت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کی وجہ سے 12 فیصد بجلی کی قیمتوں میں کمی ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی بڑھنے کا وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لیا ہے اور تمام وزرا کو طلب کر لیا ہے جب تک حکومت شرح سود میں کمی نہیں لائے گی اس وقت تک مہنگائی میں کمی نہیں آئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…