سپیکر کو اطلاع دیئے بغیر خورشید شاہ کو گرفتار کیا گیا،ملک میں کس کا قانون چل رہا ہے؟ حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی، خورشید شاہ کی گرفتاری پر پیپلزپارٹی شدید برہم

  بدھ‬‮ 18 ستمبر‬‮ 2019  |  19:45

اسلام آباد (این این آئی) قومی احتساب بیورو(نیب) نے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا۔نیب کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ قومی احتساب بیورو سکھر نے سید خورشید شاہ کو آمدن سے اثاثہ جات کیس میں گرفتار کرلیا ہے، مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کو ریمانڈ کیلئے جمعرات کو متعلقہ احتساب عدالت سکھر میں پیش کیا جائیگا۔ذرائع کے مطابق سید خورشید شاہ کو نیب راولپنڈی کی ٹیم نے اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ سے حراست میں لیا۔نیب ذرائع کے مطابق خورشید شاہ کیخلاف 7 اگست


سے تحقیقات کا آغاز ہوا تھا، ان پر کوآپریٹو سوسائٹی میں بنگلے کیلئے ایمنٹی پلاٹ غیر قانونی طور پر اپنے نام کرانے کا الزام ہے۔نیب ذرائع کے مطابق خورشید شاہ نے ہوٹل، پیٹرول پمپس اور بنگلے فرنٹ مین اور بے نامی داروں کے ناموں پر بنائے، خورشید شاہ کو راہداری ریمانڈ لیکر سکھر منتقل کیا جائے گا۔خورشید شاہ کے ملازم نے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ تقریبا بیس کے قریب لوگ گھر آئے اور خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا، انہوں نے بتایا کہ نیب اور پولیس حکام نے مجھے خورشید شاہ سے بات تک کرنے نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ بیس لوگوں نے ہمیں موبائل تک نہیں نکالنے دیا اور یہی بیس لوگ خورشید شاہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔پاکستان پیپلزپارٹی نے کے رہنماؤں نے سید خورشید شاہ کی گرفتاری کو اپوزیشن کیخلاف حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت نے سید خورشید شاہ کو گرفتار کر کے بہت ہی غلط قدم اٹھایا ہے، اگر کوئی تحقیقات بھی تھیں تو خورشیدشاہ ملک سے بھاگے تو نہیں جا رہے تھے۔۔پی پی رہنما ء شیری رحمان نے کہا کہ سپیکر کو اطلاع دیئے بغیر خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے، اس ملک میں کوئی تو قانون ہو،کس کا قانون چل رہا ہے؟۔وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ خورشید شاہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں، بہت سارے وفاقی وزراء پر انکوائریز چل رہی ہیں لیکن ان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، جو بھی حکومت پر تنقید کرتا ہے اس کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس شخصیت کا بھی تعلق اپوزیشن سے ہوتا ہے اس کو گرفتار کرلیا جاتا ہے، پیپلز پارٹی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن اس طرح کے احتساب سے پیپلز پارٹی کو نہیں ڈرایا جاسکتا۔

loading...