بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانچویں جنگ ہونے جا رہی ہے،18 سے زائد ممالک کے ساتھ ہنگامی رابطہ کر لیا گیا

datetime 28  اگست‬‮  2019 |

نیویارک (این این آئی)آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے دنیا کے اہم ملکوں کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں جن میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنوبی ایشیاء کے خطے میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلیے اپنا اہم کردار ادا کریں۔وزیراعظم نے ان سے اپیل کی ہے کہ کشمیری عوام کو جو بھارتی فوج کے نرغے میں ہیں کے قتل عام کو رکوانے اور

بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو رکوانے میں سربراہان مملکت اپنا اپنا کردار ادا کریں۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ کشمیری قوم بھارت کی جانب سے 5 اگست کو کئے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں شدید تکلیف میں ہے،بھارت کی آئینی دہشت گردی کے نتیجے میں کشمیریوں سے ان کی شناخت چھین لی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر بین الاقوامی سطح پر موجود مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے،بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں رائج 92 سال کے قانون 35 اے کو ختم کر دیا ہے جس سے ریاستی باشندے کے علاوہ دوسرے اشخاص کو جائیداد خریدنے اور ملازمت کرنے کا حق حاصل ہو گیا ہے جو کشمیریوں کی شناخت کو نقصان پہنچائے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فوج کی تعداد بھی بڑھا دی ہے اور اسوقت مقبوضہ کشمیر دنیا میں سب سے زیادہ ملٹری زون بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسوقت بھارتی فوج کی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں غیر معینہ مدت تک کے لئے کرفیو لگا رکھا ہے جس کی وجہ سے 80 لاکھ سے زیادہ آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات کی وجہ سے وادی میں انسانی بحران کا خدشہ ہے،غذائی قلت کا اندیشہ ہے جبکہ مریضوں کو ادویات کی قلت کا سامنا ہے اور کشمیری طلباء و طالبات کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے اقدامات کی وجہ سے معلومات کا فقدان ہے،پریس پر پابندی ہے،ٹیلیفون اور انٹرنیٹ بند ہے،سفر پر پابندی ہے نہ کوئی وادی میں آ سکتا ہے

نہ کسی کو باہر جانے کی آزادی ہے۔بھارتی فوج غیر معینہ مدت تک کے کرفیو کی وجہ سے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام سیاسی قیادت پابند سلاسل ہے مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی برادری مداخلت کرے اور کشمیریوں کو ان کے حقوق دلوائے تو پانچویں جنگ سے بچا جا سکتا ہے جس کے لئے دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ

ان مذاکرات کی بنیاد 1948 کی سلامتی کونسل کی قرارداد ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقت کے حامل ملک ہیں اس لئے اگر اسمرتبہ جنگ ہوئی تو وہ روائتی نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات اقوام متحدہ کی کشمیر پر قراردادوں کے بھی سراسر منافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی بھی تبدیل کرنا چاہتا ہے جو کشمیریوں کے حقوق کی سراسر نفی ہے۔انہوں نے کہا چونکہ یہ معاملہ سلامتی کونسل میں موجود ہے

اس لئے بھارت یکطرفہ اقدامات کے ذریعے اسکی ہئیت تبدیل نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کرانے میں آپ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نکالا جا سکتا ہے جس کے لئے دونوں ملکوں کو قریب لانے کی ضرورت ہے تاکہ جنوبی ایشیاء کا خطہ کسی بھی بڑے حادثے سے محفوظ رہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر اس اہم معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کیلیے آپ کا اہم کردار

انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا۔وزیراعظم نے جن سربراہان مملکت کو خطوط لکھے ہیں ان میں روس کے صدر ولادمیر پوٹن،چین کے صدر ڑی جن پنگ،جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل،انڈونیشیاء کے صدر جوکو وڈو،سنگاپور کے وزیراعظم لی ڑن لونگ،اردن کے شاہ عبداللہ بن الحسین،کیوبا کے صدر مغیوڑ دیامیر کینل،رومن کیتھولک پوپ جارج موریو برگوگیلو،اٹلی کے صدر سرگٹس میٹریلا،سپین کے صدر ماری اونو ہرجائے،ناروے کی وزیراعظم مس ارنا ہولبرگ،آسٹریلیا کی صدر الیگزینڈر نیڈو وین ڈئیر،سویڈن کے صدر سٹیفن لوفٹ،آذربائیجان،آسٹریلیا،سعودی عرب کے شاہ سلیمان بن عبدالعزیز،جاپان اور جنوبی کوریا کے سربرہان مملکت شامل ہیں۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گیٹروس کو بھی خط لکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…