منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

جمعیت علماء کے اہم رہنما اور معروف عالم دین مسجد کے باہر کرنٹ لگنے سے شہید ہوگئے

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)جمعیت علماء اسلام اتحاد ٹاؤن کے رہنما ء اور قاری محمد عثمان کے قریبی رشتے دار اور جامع مسجد یونس کے امام وخطیب مولانا رفیع الحق اپنی مسجد کے باہر کرنٹ لگنے سے شہید ہوگئے۔ نماز جنازہ قاری محمد عثمان نے پڑھائی۔ سینکڑوں علماء کرام سمیت ہزاروں افراد کی شرکت۔ ضروری کاروائی اور جنازے کے بعد انکی میت آبائی گاؤں رنزڑہ تحصیل چکیسر ضلع شانگلہ روانہ کردی گئی۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنماء،جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کے رئیس اور

علماء ایکشن کمیٹی کراچی کے چیئرمین قاری محمد عثمان نے مولانا رفیع الحق کی نماز جنازہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کی نااہلی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے حالیہ بارشوں میں کراچی کے درجنوں شہری کرنٹ لگنے سے شہید اور لاتعداد زخمی ہوگئے مگر کے الیکٹرک،کراچی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان درجنوں افراد کے سفاکانہ قتل کا ذمہ دار کے الیکٹرک کا ادارہ ہے۔آج کے دور میں دنیا میں ایسی بجلی کے کرنٹ سے اموات کی مثال نہیں ملتی۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ کرنٹ سے اموات کی بالکل قتل کے برابر ذمہ داری اس لئے کے الیکٹرک پر عاید ہوتی ہے کہ کے الیکٹرک نے کرنٹ سے بچاؤکے انتظامات کیوں نہیں کیئے۔ انہوں نے کہا کہ بارشیں اچانک نہیں ہوئی ہیں مگر کے الیکٹرک جہاں لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں ناکام ہوچکا ہے وہاں کرنٹ سے بچاؤ کے انتظامات میں بھی بری طرح ناکام ہونے کے ساتھ ساتھ اب تک درجنوں افراد کی شہادت پر نہ کوئی معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی مزید نقصانات سے بچاؤکے انتظامات کے گئے۔ علاوہ ازیں جامع مسجد ایوبیہ اتحاد ٹاون میں علماء کرام کا ایک ہنگامی اجلاس ڈاکٹر عطاء الرحمن کی زیرصدارت منعقد ہوا جسمیں قاری محمد عثمان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اجلاس میں مولانا رفیع الحق کے کرنٹ کے ذریعہ اچانک شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مولانا مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ مولانا رفیع الحق کی کرنٹ لگنے سے موت واقع ہونے کی متعلقہ تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…