منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

 پاک امریکا تعلقات،پالیسی میں بڑی تبدیلی،ڈومور کو ذہن سے نکال دیں، ”کچھ ان کے اور کچھ ہمارے مفادات ہیں“پاکستان نے بڑااعلان کردیا

datetime 25  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر آگئے ہیں، لوگ ڈومور کو ذہن سے نکال دیں، تعلقات میں کچھ ان کے مفادات ہیں، کچھ ہمارے اور ہم اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر آگے بڑھیں گے،افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار سہولت کاری کا ہے،  پاکستان نے اسامہ بن لادن کے حوالے سے ابتدائی معلومات امریکہ کو فراہم کی تھیں،

بھارت خود بھی کشمیر کو ایک تنازع تسلیم کرتا ہے چاہے ایک بند کمرے میں ہی کیوں نہ کرے،عالمی برادری مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم بند کروائے،بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی دینے کیلئے کام جاری ہے، قونصلر رسائی دے دی جائیگی۔ جمعرات کو یہاں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کا پہلا کامیاب ترین دورہ مکمل کرلیا، سال 2015 کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان یہ پہلا اعلیٰ سطح کا رابطہ تھا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات معمول پر آگئے ہیں، ڈومور کا لفظ ذہن سے نکال دیں، امریکیوں نے بھی ڈومور کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ترجمان نے کہا کہ افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار سہولت کاری کا ہے اور امریکی صدر نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے، پاکستان کے کردار کو دیگر ممالک نے بھی تسلیم کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دی گئی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات نئے سرے سے استوار ہوچکے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کے حوالے سے ابتدائی معلومات امریکہ کو فراہم کی تھیں تاہم انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) نے اسامہ بن لادن سے متعلق سینٹرل انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کی کوئی مدد کی اس کی تصدیق یا تردید نہیں کرتا۔

کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر میں ثالثی کی پیشکش کی لیکن بھارت گفتگو کیلئے تیار نہیں ہے، بھارت کو کشمیر کیلئے پختہ سوچ اپنانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ صرف بات چیت ہے، گفتگو ہوگی تو معاملات آگے بڑھیں گے، بھارت کی سمجھ میں یہ بات آجائے چاہے امریکی صدر کے سمجھانے سے آئے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت خود بھی کشمیر کو ایک تنازع تسلیم کرتا ہے چاہے ایک بند کمرے میں ہی کیوں نہ کرے تاہم وہ گفتگو کے لیے تیار نہیں ہے، پاکستان کا موقف امن اور بات چیت ہی ہے۔اس دوران دفتر خارجہ کے ترجمان نے بریفنگ میں مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور ظلم کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم بند کروائے۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہاکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی دینے کے لیے کام جاری ہے اور انہیں قونصلر رسائی دے دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…