بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سندھ حکومت پھر کہے گی، پانی نہیں ملتا تو کوکا کولا پی لیں؟ سپریم کورٹ

datetime 17  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این ) سپریم کورٹ میں نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت میں عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو 23 مئی کو طلب کر لیا اور جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈیم کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے پھر سندھ حکومت کہے گی کہ پانی نہیں ملتا تو کوکا کولا پی لیں؟۔جمعرات کو جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نئی

گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کے رویے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو 23 مئی کو طلب کر لیا اور ساتھ ہی عدالت نے نئی گج ڈیم تعمیر سے متعلق چیف سیکریٹری سندھ کا بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا۔دوران سماعت جسٹس عظمت سعید کے استفسار پر بتایا گیا کہ نئی گج ڈیم ضلع دادو میں بنے گا جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ چیف سیکریٹری دادو کی زمین سیراب کرنے اور عوام کو پانی کی ضرورت نہیں سے متعلق بیان دے دیں۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت، جن اضلاع اور افراد کی زمینیں سیراب کرنا چاہتی ہے، اس کے بارے میں ہمیں معلوم ہے، کیا سندھ حکومت یہی چاہتی ہے کہ عدالت میں نام لیے جائیں، سندھ حکومت چاہتی ہے کہ باقی عوام چاہے مر جائے فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ سندھ والوں کو پانی نہیں چاہیے تو ان کی مرضی، چیف سیکریٹری کے بیان کے بعد عدالت اپنے احکامات پر نظرثانی کرسکتی ہے، ممکن ہے کہ ڈیم تعمیر کے حکم پر بھی نظرثانی کرلیں، عدالت اب خود کوئی بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نئی گج ڈیم منصوبہ 26 ارب کا تھا، جو 46 ارب تک پہنچ چکا ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت ایکنک کا فیصلہ بھی تسلیم نہیں کر رہی، ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈیم کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، پھر سندھ حکومت کہے گی کہ پانی نہیں ملتا تو کوکا کولا پی لیں؟۔عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو 23 مئی کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ 5 مارچ کو سپریم کورٹ نے نئی گج ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم دیتے ہوئے وفاقی اور سندھ حکومت کو واپڈا کو فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔یاد رہے کہ نئی گج ایک ہل ٹورینٹ (پانی کا ماخذ) ہے جو بلوچستان کے خضدار ضلع سے نکلتا ہے اور کچ کے میدانی علاقوں سے گزرنے کے بعد یہ بالا?خر منچھر جھیل میں داخل ہوتا ہے، نئی گج کا علاقہ 8 ماہ کے لیے خشک رہتا ہے جبکہ مون سون کے سیزن کے دوران 4 ماہ یہاں پانی رہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…