جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کو کس طریقے سے بدنام کیا جارہا ہے؟ جنرل زبیر سب کچھ سامنے لے آئے،پوری دنیا کو آئینہ دکھا دیا

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے قیام سے ہی دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے، ہمارے وطن عزیز کیخلاف جعلی خبریں منظم انداز میں پھیلائی جارہی ہیں، دنیا کا کوئی مجرم کوئی جرم کرے عالمی ہیڈ لائنز نہیں بنتی لیکن پاکستانی مجرم کچھ کرے تو شہ سرخیاں کیوں بنتی ہے،پاکستان کا ہمسایہ ہر وقت پاکستان کو بدنام کرنے میں لگا رہتا ہے۔

تاہم مضبوط اور مستحکم مستقبل پاکستان کا منتظر ہے۔اسلام آباد میں پاکستان سمٹ سے خطاب کے دوران چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا تھا کہ پاکستان سمٹ درست وقت میں درست اقدام ہے، آج کے دور میں اطلاعات، سفارتکاری، فوج اور معیشت 4 بنیادی ستون بن چکے ہیں، اطلاعات آج کی طاقت ضرور ہے مگر اس کا غلط استعمال بھی ہورہا ہے، پاکستان کے بارے میں جان بوجھ کا غلط تاثر قائم کیا گیا، پاکستان کے خلاف منظم انداز میں جعلی خبریں پھیلائی جارہی ہیں، دنیا کا کوئی مجرم کوئی جرم کرے عالمی ہیڈ لائنز نہیں بنتی لیکن پاکستانی مجرم کچھ کرے تو شہ سرخیاں کیوں بنتی ہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا کہنا تھا کہ مضبوط اور مستحکم مستقبل پاکستان کا منتظر ہے، سی پیک خطے میں گیم چینجر ثابت ہونے جارہا ہے، پاکستان 2020 میں دنیا کی اٹھارہویں معیشت بننے جارہا ہے، پاکستان کا چہرہ ڈاکٹرعبد الستارایدھی، ڈاکٹر رتھ فاو، ملالہ یوسف زئی اور ارفع کریم جیسے لوگ ہیں۔ آگے آئیے اور دنیا کو بتائیے کہ پاکستان کی مثبت فہرست منفی فہرست سے کہیں زیادہ طویل ہے۔جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ پاکستان کچھ اعلی طبقات کے لیے نہیں بنا تھا، پاکستان اپنے قیام سے ہی دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور پاکستان کا ہمسایہ ہر وقت پاکستان کو بدنام کرنے میں لگا رہتا ہے۔ سرد جنگ کے بعد پاکستان کو سیاسی و ثقافتی عالمگیریت کا سامنا ہے، پاکستان نے 83 ہزار شہدا اور ڈیڑھ سو ارب ڈالر کی قربانی دے کر القاعدہ کو خطے سے نکال باہر کیا، دنیا کا کوئی ملک ہماری کامیابیوں کے قریب سے چھو کر بھی نہیں گزرا۔ پاکستان کو انتہا پسندی، گورننس اور سیکیورٹی کے کچھ مسائل ہیں مگر کیا یہ بھارت کو نہیں، بھارت میں صرف گینگ ریپ کیسز کو ہی دیکھ لیں تو سمجھ آجائے گی۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…