جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

انٹرپول نے سابق سفیر حسین حقانی کو پاکستان کے حوالے کرنے سے متعلق حتمی جواب دے دیا

datetime 4  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرپول نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا‘ انٹرپول کا موقف ہے کہ پاکستان کو جس ملک سے اپنا ملزم درکار ہے اس ملک کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ ہونا ضروری ہے۔ خارجہ سطح پر پاکستان کا مقدمہ کمزور ہونے کی وجہ سے انٹرپول حکام نے بھی معذرت کرلی۔

جس کے بعد دیگر ممالک میں قوم اربوں روپے لوٹنے والے فراریوں نے امریکہ نیشنلٹی کیلئے بھاگ دوڑ شروع کردی ہے۔ ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ ڈی جی ایف آئی اے کی جانب سے سابق سفیر حسین حقانی کی سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ گمراہ کن ہے ایف آئی اے حکام تاحال حسین حقانی کے خلاف جرم کا تعین نہیں کر سکی کہ کس بنیاد پر تحقیقات کی جائیں۔ میمو گیٹ سکینڈل کی طرز پر ایف آئی اے حکام کی جانب کرپشن کے الزامات پر جرم ثابت کرنا بہت بڑا امتحان بن چکا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اگر سابق سفیر کے خلاف تحقیقات مکمل کرکے مقدمہ درج کرلیا جائے۔ لیکن ملزم کو یو ایس اے سے پاکستان منتقل نہیں کیا جاسکتا اور انٹرپول حکام اس سے پہلے کئی بار امیگریشن حکام کو صاف انکار کر چکے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ بیرون ملک فراری ملزمان کو پاکستان لاکر احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنا حکومتی ناکامیوں اور طرز حکمرانی کی وجہ سے ناممکن نظر آتا ہے۔ ڈاکتر شکیل آفریدی ہو یا کوئی اور خارجہ سطح پر ہمیشہ ملزمان کی حوالگی میں مسائل سے دو چار ہونا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ کینیڈا‘ جنوبی افریقہ ‘ یوکے یہاں تک کہ پاکستان میں موجود فراری ملزمان نے امریکن شہریت کیلئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردیئے ہیں۔ امیگریشن حکام ذرائع کے مطابق ان میں اکثریت ایسے سرکاری افسران کی ہے جنہوں نے پاسپورٹ میں اپنی سرکاری ملازمت کو ظاہر نہیں کیا اور گزشتہ ہفتے امیگریشن حکام 47 ہزار کے قریب ایسے سرکاری افسران کی نشاندہی کر چکے ہیں اور اس حوالے سے وزارت داخلہ کو بھی تحریری طو رپر آگاہ کردیا گای ہے۔ مذکورہ بالا سرکاری افسران کو درستگی کیلئے امیگریشن حکام کی جانب سے وارننگ دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…