جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

نومسلم فلپائنی لڑکی مریم اپنی محبت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کرم ایجنسی پہنچ گئی ،حکومت سے بڑی خواہش کا اظہارکردیا

datetime 22  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فلپائن کی نومسلم لڑکی مریم اپنی محبت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کرم ایجنسی پہنچ گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق فلپائن کی رہائشی لڑکی اپنی محبت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پاکستان کے علاقے کرم ایجنسی پہنچ گئی اور پاکستانی شہریت حاصل کرنے خواہش ظاہر کردی ہے اس سلسلے میں نومسلم مریم بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا

اور درخواست دائر کی کہ میں نے عمران نامی کرم ایجنسی کے رہائشی سے اسلام قبول کرنے کے بعد شادی کرلی ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ مجھے ویزہ کی میعاد پوری ہونے پر ڈی پورٹ کردیا جائیگا لہذٰا مجھے پاکستانی شہریت دی جائے۔مریم بی بی نے درخواست میں وزارت داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور نادرا کو فریق بنایا ہے کہ درخواست کے ساتھ نکاح نامے سمیت دیگر ضروری دستاویزات بھی منسلک کی گئی ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مریم بی بی کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی۔دوسری جانب نومسلم مریم کے شوہر عمران کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ میری اہلیہ کو ڈی پورٹ کردیا جائے گا لہذٰا عدالت اور وزرات داخلہ سے درخواست ہے کہ مریم کو پاکستانی شہریت دی جائے تاکہ ہم اپنی اگلی زندگی کا سفر کرسکیں۔ فلپائن کی نومسلم لڑکی مریم اپنی محبت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کرم ایجنسی پہنچ گئی ہے اور پاکستانی شہریت حاصل کرنے خواہش ظاہر کردی ہے اس سلسلے میں نومسلم مریم بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا اور درخواست دائر کی کہ میں نے عمران نامی کرم ایجنسی کے رہائشی سے اسلام قبول کرنے کے بعد شادی کرلی ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ مجھے ویزہ کی میعاد پوری ہونے پر ڈی پورٹ کردیا جائیگا  لہذٰا مجھے پاکستانی شہریت دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…