جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پیر حمید الدین سیالوی کون ہیں؟ کیا وہ اتنے پاور فُل ہیں کہ 14 ممبران اسمبلی نے ان کے پاس استعفے جمع کروا رکھے ہیں، پیر صاحب کی وجہ شہرت کیا ہے؟ دلچسپ رپورٹ

datetime 1  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے دھرنے کو ختم کرانے کے لیے کیے جانے والے آپریشن کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت شدید مشکلات کا شکار ہے، بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی جماعت کی مرکزی قیادت اور وزرا کو مظاہرین کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سرگودھا سے تعلق رکھنے والی ایک روحانی شخصیت پیر حمید الدین سیالوی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ

پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15 ارکان اسمبلی نے اپنے استعفے ان کے پاس جمع کروا دیے ہیں، ان کے اس دعوے نے حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، پیر حمید الدین سیالوی نے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے بارے میں کہا ہے کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نہ صرف مستعفی ہوں بلکہ وہ ٹی وی پر آ کر یہ وضاحت بھی کریں کہ وہ احمدیوں کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے، جس کے بعد وہ بحیثیتِ مسلمان اپنے ایمان کی تجدید بھی کریں۔ پیر حمید الدین سیالوی نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے وزیر برائے مذہبی امور زعیم قادری نے صورت حال کی سنگینی کے پیشِ نظر پیر حمید الدین سیالوی سے ملاقات کی اور ان کے گِلے شکوے دور کرنے کی کوشش کی۔ بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ کیا ان کا اثر و رسوخ اس قدر زیادہ ہے کہ سیاستدان انہیں اپنے استعفے پیش کر دیں اور اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دے دیں گے؟ واضح رہے کہ پیر حمید الدین سیالوی سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں سیال شریف کے چشتی صوفی سلسلے سے تعلق رکھنے والے مذہبی سکالر اور صوفی خواجہ قمر الدین سیالوی کے صاحبزادے ہیں، وہ 1988 سے لے کر 1993 تک سینٹ کے ممبر رہ چکے ہیں۔ خواجہ قمر الدین سیالوی برصغیر اور پھر تقسیم کے بعد پاکستان میں تحریکِ ختمِ نبوت کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خواجہ قمرالدین سیالوی 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں پاکستان میں چلائی جانے والی ختمِ نبوت تحریک کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ ان کا اور ان کے خاندان کا اثر و رسوخ سرگودھا، چنیوٹ، میانوالی، خوشاب اور ملحقہ اضلاع میں پھیلا ہوا ہے اور ان کے عقیدت مندوں میں ان اضلاع کے بڑے سیاسی خاندان بھی شامل ہیں۔ اس طرح وہ علاقے کی سیاست پر اثر انداز تو یقیناً ہوتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اگر 14 نہیں تو کم از کم آٹھ سے نو ارکان ایسے ہیں جو ان کے پاس استعفے جمع کروا چکے ہیں۔

ان میں قومی اور پنجاب اسمبلی دونوں کے ارکان شامل ہیں۔ ان میں قومی اسمبلی سے غلام محمد لالی، غلام بی بی بھروانہ اور شیخ وقاص اکرم کے والد شیخ محمد اکرم کے نام نمایاں ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی سے پیر حمید الدین سیالوی کے بھتیجے صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی سمیت جھنگ اور چنیوٹ سے منتخب ارکان شامل ہیں۔تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان ارکان اسمبلی نے پیر حمید الدین سیالوی کو اپنے استعفے ان کے اثر و رسوخ کے وجہ سے جمع کروائے ہیں؟ بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ

پیر حمید الدین سیالوی کا اثر و رسوخ اپنی جگہ تاہم سیاسی شخصیات اپنے ووٹروں کو یہ بھی دکھانا چاہتی ہیں کہ وہ ’ختمِ نبوت‘ جیسے نازک معاملے پر کس جانب کھڑے ہیں؟ رپورٹ کے مطابق پیر حمید الدین سیالوی کی جگہ اگر کوئی اور شخصیت بھی ہوتی تو ان کو استعفے دے دیے جاتے، مقصد تو اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق پیر حمید الدین سیالوی کے خاندان کا سیاسی اثر و رسوخ سرگودھا اور اس کے نواحی علاقوں میں کافی زیادہ ہے اور وہ مستقبل میں سرگودھا کے سیاستدانوں کے لیے ایک نیا مرکز بھی بن سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…