منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ایک دو نہیں بلکہ بہت سی سیاسی پارٹیاں آئندہ انتخابات سے باہر، حیرت انگیزاقدام کی تیاریاں

datetime 14  اپریل‬‮  2017 |

سلام آباد(آئی این پی )پارلیمانی انتخابی اصلاحات کی ذیلی کمیٹی نے آئندہ عام انتخابات میں5فیصدسے کم ووٹ لینے والی سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان جاری نہ کرنے اور انتخابات میں شرکت کے لیے نااہل قرار دینے کی سفارش کردی۔الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن فیس ایک لاکھ سے بڑھاکر5لاکھ کرنیکی تجویزہ بھی زیر غور۔جمعہ کو ذیلی کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے کنوینر وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی زیر

صدارت یہاں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت الیکشن کمیشن کے حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں انتخابی قوانین اوررولز میں ترامیم کا جائزہ لیا گیا۔ان کیمرہ اجلاس کے بعد میڈیا کو اجلاس کی کارروائی بارے بریفنگ دیتے ہوئے زاہد حامد نے کہا کہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ آئیندہ عام انتخابات میں5فیصدسے کم ووٹ لینے والی پارٹی حصہ نہیں لے سکے گی۔ یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ5فیصدسے کم ووٹ حاصل کرنیوالی پارٹی کونشان بھی الاٹ نہیں ہوگا۔الیکشن رولزمیں الیکشن کمیشن کے تیار رکردہ نئے ایکٹ کے تحت ترمیم کرینگے،پارٹی رجسٹریشن کے لیے نیا طریقہ متعین کررہے ہیں،رجسٹریشن کیلئے ممبرزکی تعدادایک ہزارسے بڑھاکر5سے10ہزارکرنے کی سفارش ہے،پارٹی رجسٹریشن فیس بھی ایک لاکھ سے بڑھاکر5لاکھ کرنیکی تجویزہے5فیصدسے کم ووٹ لینے والی پارٹی آئندہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکے گی،5فیصدسے کم ووٹ حاصل کرنیوالی پارٹی کونشان بھی الاٹ نہیں ہوگا،اس سے قبل قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات میں  وزیر موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ کراچی کی 2 کروڑ کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ کراچی میں سیوریج کا نظام نا مکمل اور غیر موثر ہے جس کے نتیجے میں تقریباً 50کروڑ گیلن یومین سیوریج کا پانی پیدا ہو رہاہے اور اسی حالت میں یہ آلودہ پانی لیاری اور ملیر ریورز کے ذریعے سمندر میں چھوڑا جا رہا ہے۔ زیر زمین پانی آلودہ ہونے کے علاوہ سی فوڈ کی برآمدات پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

مچھلی کی پیداوار کو نقصان ہو رہا ہے۔ غذائی اشیاء آلودہ ہو رہی ہیں کیونکہ اندرون شہر کراچی میں گھریلو اور غیر صاف شدہ گندے پانی کے استعمال کے ذریعے سبزیاں اگائی جا رہی ہیں۔زیر زمین پانی آلودہ ہونے کے علاوہ سی فوڈ کی برآمدات پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ مچھلی کی پیداوار کو نقصان ہو رہا ہے۔ غذائی اشیاء آلودہ ہو رہی ہیں کیونکہ اندرون شہر کراچی میں گھریلو اور غیر صاف شدہ گندے پانی کے استعمال کے ذریعے سبزیاں اگائی جا رہی ہیں۔  ٹریٹمنٹ پلانٹس تک بڑی سیوریج لائنیں بچھانے اور نئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر ‘ موجودہ پلانٹس کی بحالی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے سے گندے پانی کو ٹریٹمنٹ کے بعد سمندر میں چھوڑنے ‘ ساحل سمندر صاف ہونے کے ساتھ ساتھ شہر کے ماحول کے تحفظ اور اسے بہتر بنانے ‘ سمندری ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…