جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

حسین حقانی کے صبر کا پیمانہ لبریز،خطرناک اقدام کی دھمکی دیدی

datetime 18  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی) امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ میں نے مضمون کسی کی توجہ حاصل کرنے کیلئے نہیں لکھا ٗ میرا مقصد قبرستان کے پاس سے گزرنا تھا گڑھے مردے اکھاڑنا نہیں ۔نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں حسین حقانی نے کہاکہ میں نے یہ نہیں کہا کہ ایبٹ آباد کا آپریشن غیر قانونی تھا ٗاصل ایشو یہ ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں کیوں تھا ؟میں نے اپنے دور میں کسی قانون کی

خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی کسی کو غیر قانونی طور پر ویزہ دیا گیا ،سفیر ویزے جاری نہیں کرتا بلکہ ویزے منسوخ کرتا ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے ہمیں اس لئے اعتماد میں نہیں لیا کہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر پاکستان کو ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے بتایا گیا تو بعض ادارے خفیہ طور پر اسامہ بن لادن کو عندیہ نہ دے دیں کہ امریکہ اس کے خلاف کارروائی کرنے والا ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کی پاکستانی اداروں کے حوالے سے یہ رائے غلط تھی ۔حسین حقانی نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مجھ سے کوئی غلط بات نہیں کی ٗسب میرے دوست اور پرانے ساتھی ہیں تاہم اگر کوئی میرے اوپر غداری کا مقدمہ درج کرانا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ کار پاکستان کے قانون میں لکھا ہو ا ہے اس کے مطابق مقدمہ درج کرائے اور کارروائی شروع کرے ٗہماری قومی بد قسمتی ہے کہ ہر آدمی راہ چلتے دوسرے پر کفر کا فتوی لگا دیتا ہے ٗہمارے ہاں دو ’’ فیکٹریاں ‘‘ بنی ہوئی ہیں ٗایک فیکٹری میں لوگوں کا غدار کہا جاتا ہے جبکہ دوسری ’’ڈرائی کلیننگ ‘‘ فیکٹری ہے ،جہاں جو شخص بھی داخل ہو جاتا ہے پاک صاف ہو جاتا ہے ۔حسین حقانی نے کہا کہ میرے خلاف سیاسی بیان دیئے جا رہے ہیں ٗمیں عملی سیاست میں نہیں اس لئے جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا ،جب کوئی میرے خلاف مقدمہ بنائے گا پھر دیکھوں گا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاسی بیان

بازی سے باہر نکل کر اصل ایشو کی طرف آنا چاہئے ٗ اسامہ بن لادن کا پتا نہیں چلا تو سی آئی اے ایجنٹس کا بھی پتا نہیں چلے گا ٗاگر کوئی کمیشن بنا تو میں سارے ویزہ فارم اور سارے حقائق سامنے رکھ دوں گا ،اسامہ بن لادن کی پاکستان موجودگی میرے کسی دیئے ہوئے ویزے کی وجہ سے نہیں تھی ، پاکستانی انٹیلی جنس کا فیلئر میرے کسی ویزے کی وجہ سے نہیں تھی اور نہ ہی میرے کسی دیئے ہوئے ویزے کی وجہ سے اسامہ بن لادن کا سراغ لگا ٗکمیشن کیلئے مجھے پاکستان آنے کی ضرورت نہیں ٗمنصور اعجاز نے بھی میمو گیٹ میں باہر بیٹھ کر گواہی دی تھی ٗ ابھی تو میں نے اور بھی مضمون لکھنے ہیں ٗپانی میں مدھانی والے کسی کمیشن میں شریک نہیں ہوں گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…