پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

تربیلا اورمنگلا میں حالات تشویشناک،پانی کا بحران بالاخر سِر پر آگیا،کیا ہونیوالا ہے؟اہم سرکاری ادارے کے انکشافات،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 18  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی ) صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے مجاز ادارے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی نے ملک کے چاروں صوبوں کے حکام کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ یکم اپریل سے تقریباً دو ہفتوں کے لیے صوبوں کو زرعی استعمال کے لیے پانی کی ترسیل معطل رہے گی۔ ارسا کے حکام نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی استعمال کے لیے اپریل کے ابتدائی دو ہفتوں میں پانی کی سپلائی

بند کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبوں کو پینے اور استعمال کے لیے پانی فراہم کیا جاتا رہے گا۔ ارسا حکام کا کہنا ہے کہ اپریل کے پہلے دو ہفتوں میں زرعی استعمال کے لیے پانی کی بندش کئی سالوں بعد کی جا رہی ہے اس لیے یہ غیر معمولی اقدام لگ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ چند برسوں میں بارشوں کا سلسلہ معمول سے زیادہ رہا تھا اس لیے پانی بند نہیں کیا گیا لیکن اس سال بارشیں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں ذرا کم رہیں جس وجہ سے ڈیموں میں پانی کی سطح ’ڈیڈ لیول‘ تک پہنچ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت تربیلا اور منگلا میں پانی کی سطح انتہائی کم ترین ہے اور صرف اتنا ہی پانی ڈیموں سے خارج کیا جا رہا ہے جتنا دریاؤں میں آ رہا ہے۔ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے بارے میں تازہ ترین اعداد و شمار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جمعرات کے روز دریائے سندھ میں تربیلا سے اوپر پانی کا بہاؤ 17 ہزار کیوسک تھا، کابل میں چھ ہزار کیوسک، منگلا میں 25 ہزار کیوسک اور چناب میں 12 ہزار کیوسک۔انھوں نے بتایا کہ اس وقت دریاؤں میں پانی ذخیرہ نہیں کیا جا رہا اور جتنا پانی آ رہا ہے اتنا ہی نیچے جا رہا ہے۔ارسا حکام نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اس برس پہاڑوں پر برفباری معمول سے زیادہ ہوئی ہے اور موسم گرما شروع ہوتے ہی دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کی سطح پر آ جائے گا اور خریف کی فصل کے لیے طلب کے مطابق پانی دستیاب ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…