منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

تربیلا اورمنگلا میں حالات تشویشناک،پانی کا بحران بالاخر سِر پر آگیا،کیا ہونیوالا ہے؟اہم سرکاری ادارے کے انکشافات،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 18  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی ) صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے مجاز ادارے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی نے ملک کے چاروں صوبوں کے حکام کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ یکم اپریل سے تقریباً دو ہفتوں کے لیے صوبوں کو زرعی استعمال کے لیے پانی کی ترسیل معطل رہے گی۔ ارسا کے حکام نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی استعمال کے لیے اپریل کے ابتدائی دو ہفتوں میں پانی کی سپلائی

بند کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبوں کو پینے اور استعمال کے لیے پانی فراہم کیا جاتا رہے گا۔ ارسا حکام کا کہنا ہے کہ اپریل کے پہلے دو ہفتوں میں زرعی استعمال کے لیے پانی کی بندش کئی سالوں بعد کی جا رہی ہے اس لیے یہ غیر معمولی اقدام لگ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ چند برسوں میں بارشوں کا سلسلہ معمول سے زیادہ رہا تھا اس لیے پانی بند نہیں کیا گیا لیکن اس سال بارشیں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں ذرا کم رہیں جس وجہ سے ڈیموں میں پانی کی سطح ’ڈیڈ لیول‘ تک پہنچ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت تربیلا اور منگلا میں پانی کی سطح انتہائی کم ترین ہے اور صرف اتنا ہی پانی ڈیموں سے خارج کیا جا رہا ہے جتنا دریاؤں میں آ رہا ہے۔ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے بارے میں تازہ ترین اعداد و شمار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جمعرات کے روز دریائے سندھ میں تربیلا سے اوپر پانی کا بہاؤ 17 ہزار کیوسک تھا، کابل میں چھ ہزار کیوسک، منگلا میں 25 ہزار کیوسک اور چناب میں 12 ہزار کیوسک۔انھوں نے بتایا کہ اس وقت دریاؤں میں پانی ذخیرہ نہیں کیا جا رہا اور جتنا پانی آ رہا ہے اتنا ہی نیچے جا رہا ہے۔ارسا حکام نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اس برس پہاڑوں پر برفباری معمول سے زیادہ ہوئی ہے اور موسم گرما شروع ہوتے ہی دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کی سطح پر آ جائے گا اور خریف کی فصل کے لیے طلب کے مطابق پانی دستیاب ہو گا۔



کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…