اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

’’ 25 سال میں تین بڑی جنگیں لڑنا پڑیں‘‘ خطرات کے باعث اس کام کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ، پاکستان نے واضح اعلان کر دیا

datetime 4  مارچ‬‮  2017 |

نیویارک (آن لائن) امریکہ کے شہر نیویارک میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے قونصلر یاسر عمار نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی بقاء کے لئے 25 سال میں تین بڑی جنگیں لڑنا پڑیں ۔ خطرات کے باعث پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا پاکستان کو سرحدوں کی حفاظت اور ملکی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا رہا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکہ کے شہر نیویارک میں جوہری ہتھیاروں سے

 

متعلق اقوام متحدہ کے مشاورتی اجلاس میں کیا ۔ یاسر عمار نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی فساہل مواد کم کرنے کے معاہدے کی مخالفت کا اعادہ کرے گا اور موجودہ سٹاک کے حوالے سے کسی ملک سے امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں ملکوں کی سلامتی میں تخفیف کے بغیر مساوی سلوک کیا جائے اور فساہل مواد کی پیداوار میں کمی کے معاہدے سے پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی ۔ ہتھیاروں کے عدم پھیلائو کی اقدار پر عملدرآمد کے حوالے سے معاہدہ دوہرے معیار کی مشق ہو گی اور ایسے امتیازی اقدامات جنوبی ایشیاء میں علاقائی سٹرٹیجک و استحکام کے لئے خطرہ ہوں گے ۔ قونصلر یاسر عمار نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی بقاء کے لئے 25 سال میں تین بڑی جنگیں لڑنا پڑیں جبکہ دیرینہ مسائل کے حل میں عالمی برادری ناکام رہی اور پاکستان کو سرحدوں کی حفاظت ، ملکی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا رہا ۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ خطرات کے باعث پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور پاکستان کی جوہری صلاحیت جنوبی ایشیاء میں قیام امن کے لئے ضروری ہے جبکہ پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ اور مضبوط ہاتھوں میںہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…