پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

’’پاکستانی شاہینوں کی ہمسایہ ملک میں دبنگ کارروائی ‘‘

datetime 18  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹررنگ ڈیسک) پاک فوج کی دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کے بعد پاکستانی سفیر کو افغان حکومت نے طلب کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق افغان حکومت نے پاکستانی سفیر کو طلب کیا ۔ پاکستانی سفیر کو افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کے معاملے پر طلب کیا گیا جس پر پاکستانی سفیر نے واضح جواب دیا کہ

پاکستان میں ہونے والی شدت پسند کارروائیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ان میں ملوث دہشت گرد جہاں بھی موجود ہونگے پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا ۔واضح رہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی ہدایت پرپاک فوج نے افغان سرحدپردہشتگردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بناکرموثرکارروائی کی ہے۔ایک افغان خبررساں ایجنسی نے اپنی خبرمیں دعوی کیاہے کہ پاک فوج کی طرف سے افغان سرحدپردہشتگردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایاگیاہے۔اورپاک فوج نے افغانستان کےصوبے کنٹر میںگولہ باری کی ہے۔جس سے کچھ افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔افغان ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ کنڑ کے ضلع سرکانومیں ڈیورنڈلائن کی دوسری طرف سے گولہ باری کی گئی۔ اور یہ گولہ باری کئی گھنٹے ہوتی رہی۔افغان خبررساں ادارے کے مطابق پاک فوج نے حملے کےلئے میزائل استعمال کئے جس سے متعددافرادزخمی ہوگئے ہیں۔افغانستان میں روپوش دہشت گردوں کیخلاف پاک فوج کا بڑا آپریشن شروع ہو گیا ہے۔

گزشتہ روز سندھ کے شہر سیہون شریف میں واقع حضرت لال شہباز قلندر کی درگاہ پر خود کش حملے کے بعد پاکستان کی عسکری قیادت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اب دہشت گردوں کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے ملتے ہیں۔پاک فوج افغانستان میں

روپوش ان دہشت گردوں کو بھی چن چن کر جہنم واصل کرے گی۔ اب کئی غیر ملکی خبر ساں اداروں اور ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پاک فوج نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کیخلاف باقاعدہ کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ پاک فوج نے جمعہ کے روز افغانستان کے مشرقی صوبے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی ہے۔ یہ وہی صوبہ ہے جہاں داعش اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی قیادت روپوش ہے۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب پاک فوج نے دہشت گردوں کیخلاف افغانستان کے اندر کوئی کاروائی کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…