پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ مجبور ہو گیا ۔۔ پاکستان سے مدد طلب کر لی

datetime 13  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں تعینات اعلی ترین امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسننے کہا ہے کہ روس، پاکستان اور ایران جنگ سے تباہ حال افغانستان میں اپنے اپنے مقاصد کے لیے کوشاں ہیں جس سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف لڑائی پیچیدہ ہو رہی ہے، ہم پاکستان سے تمام دہشت گردوں کے خلاف تعاون چاہتے ہیں،

ہمیں پاکستان میں بیرونی (دہشت گردوں کی)پناہ گاہوں پردبائو ڈالنا ہے، دہشت گردوں کا خاتمہ خود پاکستان کے لیے اس کے ہاں ہونے والے دہشت گرد حملوں میںکمی لائے گا،ہم سب پاکستان کے رویے میں تبدیلی کی امید کرتے ہیں، یہ خود پاکستان کے مفاد میں ہے، طالبان میں ایسے عناصر ہیں جو ملک میں حقیقت پسندانہ امن کے بارے میں سوچ رکھتے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں جنرل جان نکولسن کا کہنا تھا روس، پاکستان اور ایران جنگ سے تباہ حال اس ملک میں اپنے اپنے مقاصد کے لیے کوشاں ہیں ہمیں بیرونی عناصر پر تشویش ہے ۔جنرل نکولسن نے روس کے طالبان کے ساتھ رابطوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ روس طالبان کو جائز قرار دینے اور ان کی حمایت کرتا رہا ہے۔۔دریں اثنا طالبان دہشت گردوں کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ روس طالبان اور منشیات کی تجارت سے وابستہ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔جنرل نکولسن کا بھی کہنا تھا کہ طالبان میں ایسے

عناصر ہیں جو ملک میں حقیقت پسندانہ امن کے بارے میں سوچ رکھتے ہیں۔ ان کے بہت سے راہنما افغانوں کے لیے بہتر زندگی دیکھتے ہیں۔امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ دوسری ایران مغربی افغانستان میں انتہا پسندوں کی حمایت کر رہا ہے۔یہ صورتحال روس کے معاملے سے زیادہ پیچیدہ ہے۔انھوںنے کہاکہ ایران اور افغانستان میں ایک تعلق کی ضرورت ہے۔جنرل نکولسن کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان سے تمام دہشت گردوں کے خلاف تعاون چاہتے ہیں۔ ہمیں پاکستان میں بیرونی (دہشت گردوں کی)پناہ گاہوں پردبائو ڈالنا ہے۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا خاتمہ خود پاکستان کے لیے اس کے ہاں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں لائے گا۔ہم سب پاکستان کے رویے میں تبدیلی کی امید کرتے ہیں۔ یہ خود پاکستان کے مفاد میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…