ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

سیالکوٹی یالاہوری نہیں وزیر اعظم خو د ایو ان میں آ کر اپنے بیا ن کی وضا حت دیں ،شاہ محمود قریشی

datetime 27  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) تحریک انصاف کے راہنما شاہ محمود قریشی نے اسمبلی میں حکومتی وزراء کی غنڈہ گردی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسمبلی میں آ کر تقریر اور بیان پر وضاحت کریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کیا ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومتی وزراء نے قومی سطح کے لیڈر کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی

 

اور منتخب اراکین سے غیر پارلیمانی ‘ غیر اخلاقی اور غیر انسانی رویہ اپنا کر غنڈہ گردی اور تشدد کی مثال قائم کی ۔ دانیال عزیز کا لب و لہجہ نامناسب اور غیر اخلاقی ہے ماضی میں ایسی بداخلاق سیاست قومی اسمبلی میں نہیں ہوئی جس طرح مسلم لیگ(ن) نے ذاتی مفادات اور وزیر اعظم کو بچانے کے لئے کی ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اگر خود کو منتخب وزیر اعظم سمجھتے ہیں تو وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں ہم نے باحیثیت اپوزیشن جماعت دوسری جماعتوں سے مل کر مالی بدعنوانیوں پر وزیر اعظم سے جواب مانگا تو انہوں نے ایوان میں تقریر کی اور اپنے موقف کی وضاحت کی لیکن عدالت میں اور غیر ملکی میڈیا میں جو دستاویزات سامنے آئیں ان سے ان کی چوری اور غلط بیانی پکڑی گئی ۔دن بدن ہمارے موقف کی تائید ہو رہی ہے کہ وزیر اعظم نے ایوان میں جھوٹ بولا کہ بیرون ملک جائیداد کے حوالے سے تمام تر دستاویزات ہمارے پاس موجود ہیں لیکن سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کی کارروائی کے دوران کوئی ایک بھی ثبوت پیش نہ کر سکے کہ جس سے ثابت ہوتا ہو کہ بیرون ملک جائیداد ان کی ملکیت ہے ۔ دوسری طرف وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے بیانات میں بھی تضادات موجود ہیں جس پر ہم وزیر اعظم سے اسمبلی میں آ کر وضاحت چاہتے ہیں کیونکہ قطری کے متواتر خطوط آ رہے ہیں اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے وزیر

 

اعظم سے وضاحت چاہی تو حکومت وزراء اور اراکین سیخ پا ہو گئے اور تحریک انصاف کے اراکین پر سچ کی پاداش میں نہ صرف ایوان کے اندر حملے کئے بلکہ غلیظ اور نازیبا زبان بھی استعمال کی ۔ سپیکر ایاز صادق کو اس معاملے میں غیر جانبداری سے کام لے کر اس کو سلجھانا چاہئے تاکہ مسئلہ حل ہو وگرنہ بصورت دیگر معاملہ مزید بدمزدگی اور انتشار کی جانب بڑھے گا جس سے ایوان کا تقدس پامال ہو گا جس کی ذمہ داری

 

حکومتی وزراء وار سپیکر اسمبلی پر عائد ہو گی ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ تحریک استحقاق پر سپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن کو بات کرنے کاموقع دیں گے جس پر پیپلزپارٹی نے مہر ثبت کی ہے ۔ انہوں نے صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ حکومتی وزیر خواجہ آفص نے مجھ پر ذاتی حملے کئے مگر میں برا نہیں منائوں گا کیونکہ میرے دل میں کوئی میل نہیں ہے ہم صرف وزیر اعظم سے وضاحت چاہتے ہین اور امید ہے کہ وہ اسمبلی میں آ کر وضاحت دیں گے کیونکہ سیالکوٹییالاہوری

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…