ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

عمران فاروق قتل کا ڈراپ سین ۔۔۔ عمران اور الطاف حسین کے درمیان کیا چل رہا تھا ؟ کہانی کھل گئی ۔۔ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کراچی(آن لائن)عمران فاروق قتل کیس میں خالد شمیم کے بعد محسن علی کا اعترافی بیان بھی سامنے آگیا جبکہ ملزم محسن علی نے انکشاف کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق الطاف حسین کی جگہ لینا چاہتے تھے، اس لیے پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے انہیں مروا دیا۔عمران فاروق قتل کیس کے ملزم محسن نے اعتراف کیا کہ اس نے عمران فاروق کو دبوچا جبکہ کاشف نے اینٹ اور چھری کے وار کر کے انہیںقتل کیا۔عمران فاروق قتل کیس کے ملزم محسن علی کے مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان کیا جس میں ملزم محسن علی نے قتل کی واردات میں شامل ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ملزم کے بیان کے مطابق عمران فاروق کو قتل کرنے کا حکم متحدہ کی ٹاپ لیڈر شپ نے دیا، کراچی یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ایم کیو ایم کے پرانے کارکن کاشف اور خالد شمیم سے ملاقات ہوئی۔ملزم نے بیان میں کہا ہے کہ کاشف اکثر کہتا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق بانی ایم کیو ایم کی جگہ لینے کی کوشش کر رہا ہے، تمہیں نہیں لگتا کہ اسے مار دینا چاہیے۔ملزم کے بیان کے مطابق ایک دن کاشف نے بتایا کہ اوپر سے حکم ملا ہے کہ عمران فاروق کو مار دو، لندن جا کر عمران فاروق کی ریکی کرنے کی ذمہ داری مجھے دی گئی، برطانیہ بھجوانے کے لیے لندن اکیڈمی آف مینجمنٹ سائنسز میں داخلہ کرایا گیا۔ملزم محسن علی کے مطابق اس نے لندن جا کر عمران فاروق کے گھر اورلندن سیکریٹریٹ کے درمیان ایک گھر میں رہائش اختیار کی اور عمران فاروق کی ریکی کرنے لگا۔ملزم نے بیان میں کہا ہے کہ کاشف کو عمران فاروق کےآنے جانے کے اوقات سے آگاہ کیا،ون پائونڈ شاپ سے باورچی خانے میں استعمال ہونے والی چھریوں کا سیٹ خریدا، کاشف نے چھریاں عمران فاروق کے گھر کے لان میں چھپا دیں، 15ستمبر کی رات کاشف نے کہا کہ ہمیں کل ہی یہ کام کرنا ہے تاکہ 17ستمبر کو بانی قائد کی سالگرہ پر انہیں تحفہ دیا جا سکے۔ملزم کے بیان کے مطابق 16ستمبر کی شام6 بجے کے قریب عمران فاروق کا پیچھا کیا، کاشف نے لان سے چھری نکالی،میں نے عمران فاروق کو سامنے آ کر متوجہ کیا اور اچانک گھوم کر پیچھے سے دبوچ لیا، کاشف نے پہلے عمران فاروق کے گھر کے لان سے اینٹ اٹھا کر ان کے سر پر وار کیا،پھرچھاتی اور پیٹ پر چھریوں کے وار کیے، عمران فاروق ایک دم میرے ہاتھوں میں جھول گئے، چھری قریبی ڈسٹ بن میں پھینک کر ہم اپنے گھر چلے آئے۔واردات کے بعد کاشف نے خالد شمیم کو فون کر کے بتایا کہ ماموں کی صبح ہو گئی ہے، ماموں عمران فاروق کا کوڈ نام تھا جو کاشف نے مجھے بتایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…