منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

دو سوالوں کو اسائنمنٹ

datetime 29  اکتوبر‬‮  2016 |

کولمبیا کی ایک یونیورسٹی میں میتھس کے لیکچر کے دوران کلاس میں حاضر ایک لڑکا بوریت کی وجہ سے سارا وقت پچھلے بنچوں پر مزے سے سویا رہا، لیکچر کے اختتام پر طلباء کے باہر جاتے ہوئے شور مچنے پر اسکی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ پروفیسر نے وائٹ بورڈ پر دو سوال لکھے ہوئے ہیں۔ لڑکے نے انہی دو سوالوں کو اسائنمنٹ سمجھ کر جلدی جلدی اپنی نوٹ بک میں لکھا اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ ہی کلاس سے نکل گیا۔….
گھرجا کرلڑکا ان دو سوالوں کےحل سوچنے بیٹھا۔ سوال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مشکل ثابت ہوئے۔ میتھس کا اگلا سیشن چار دنوں کے بعد تھا اس لئے لڑکے نے سوالوں کو حل کرنے کیلئے اپنی کوشش جاری رکھی۔ اور یہ لڑکا چار دنوں کے بعد ایک سوال کو حل کر چکا تھا….
اگلی کلاس میں لڑکے کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پروفیسر نے آتے ہی بجائے دیئے ہوئے سوالوں کے حل پوچھنے کے، نئے ٹوپک پر پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ لڑکا اُٹھ کر پروفیسر کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ سر ، میں نے چار دن لگا کر ان چار پیجز پر آپکے دیئے ہوئے دو سوالوں میں سے ایک کا جواب حل کیا ہے اور آپ ہیں کہ کسی سے اس کے بارے میں پوچھ ہی نہیں رہے؟
پروفیسر نے حیرت سے لڑکے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ میں نے تو کوئی اسائنمنٹ نہیں دی۔ ہاں مگر میں نے وائٹ بورڈ پر دو ایسے سوال ضرور لکھے تھے جن کو حل کرنے میں اس دُنیا کے سارے لوگ ناکام ہو چکے ہیں…
جی ہاں۔ یہی منفی اعتقادات اور سوچ ہے، جنہوں نے اس دُنیا کے اکثر انسانوں کو ان مسائل کے حل سے ہی باز رکھا ہوا ہے، کہ انکا کوئی جواب دے ہی نہیں سکتا تو کوئی اور کیوں کر انکو حل کرنے کیلئے محنت کرے۔
اگر یہی طالبعلم عین اُس وقت جبکہ پروفیسر وائٹ بورڈ پر یہ دونوں سوال لکھ رہا تھا، جاگ رہا ہوتا اور پروفیسر کی یہ بات بھی سن رہا ہوتا کہ کہ ان دو مسائل کو حل کرنے میں دنیا ناکام ہو چکی ہے تو وہ بھی یقیناً اس بات کو تسلیم کرتا اور ان مسائل کو حل کرنے کی قطعی کوشش ہی نہ کرتا۔ مگر قدرتی طور ہر اُسکا سو جانا اُن دو مسائل میں سے ایک کے حل کا سبب بن گیا۔ اس مسئلے کا چار پیجز پر لکھا ہوا حل آج بھی کولمبیا کی اُس یونیورسٹی میں موجود ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…