جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

دو سوالوں کو اسائنمنٹ

datetime 29  اکتوبر‬‮  2016 |

کولمبیا کی ایک یونیورسٹی میں میتھس کے لیکچر کے دوران کلاس میں حاضر ایک لڑکا بوریت کی وجہ سے سارا وقت پچھلے بنچوں پر مزے سے سویا رہا، لیکچر کے اختتام پر طلباء کے باہر جاتے ہوئے شور مچنے پر اسکی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ پروفیسر نے وائٹ بورڈ پر دو سوال لکھے ہوئے ہیں۔ لڑکے نے انہی دو سوالوں کو اسائنمنٹ سمجھ کر جلدی جلدی اپنی نوٹ بک میں لکھا اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ ہی کلاس سے نکل گیا۔….
گھرجا کرلڑکا ان دو سوالوں کےحل سوچنے بیٹھا۔ سوال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مشکل ثابت ہوئے۔ میتھس کا اگلا سیشن چار دنوں کے بعد تھا اس لئے لڑکے نے سوالوں کو حل کرنے کیلئے اپنی کوشش جاری رکھی۔ اور یہ لڑکا چار دنوں کے بعد ایک سوال کو حل کر چکا تھا….
اگلی کلاس میں لڑکے کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پروفیسر نے آتے ہی بجائے دیئے ہوئے سوالوں کے حل پوچھنے کے، نئے ٹوپک پر پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ لڑکا اُٹھ کر پروفیسر کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ سر ، میں نے چار دن لگا کر ان چار پیجز پر آپکے دیئے ہوئے دو سوالوں میں سے ایک کا جواب حل کیا ہے اور آپ ہیں کہ کسی سے اس کے بارے میں پوچھ ہی نہیں رہے؟
پروفیسر نے حیرت سے لڑکے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ میں نے تو کوئی اسائنمنٹ نہیں دی۔ ہاں مگر میں نے وائٹ بورڈ پر دو ایسے سوال ضرور لکھے تھے جن کو حل کرنے میں اس دُنیا کے سارے لوگ ناکام ہو چکے ہیں…
جی ہاں۔ یہی منفی اعتقادات اور سوچ ہے، جنہوں نے اس دُنیا کے اکثر انسانوں کو ان مسائل کے حل سے ہی باز رکھا ہوا ہے، کہ انکا کوئی جواب دے ہی نہیں سکتا تو کوئی اور کیوں کر انکو حل کرنے کیلئے محنت کرے۔
اگر یہی طالبعلم عین اُس وقت جبکہ پروفیسر وائٹ بورڈ پر یہ دونوں سوال لکھ رہا تھا، جاگ رہا ہوتا اور پروفیسر کی یہ بات بھی سن رہا ہوتا کہ کہ ان دو مسائل کو حل کرنے میں دنیا ناکام ہو چکی ہے تو وہ بھی یقیناً اس بات کو تسلیم کرتا اور ان مسائل کو حل کرنے کی قطعی کوشش ہی نہ کرتا۔ مگر قدرتی طور ہر اُسکا سو جانا اُن دو مسائل میں سے ایک کے حل کا سبب بن گیا۔ اس مسئلے کا چار پیجز پر لکھا ہوا حل آج بھی کولمبیا کی اُس یونیورسٹی میں موجود ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…