جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ رشید کو لال حویلی خالی کرنے کا حکم،چند ہی گھنٹوں میں حکومتی موقف میں حیرت انگیز تبدیلی،نیا اعلان کردیاگیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2016 |

راولپنڈی(این این آئی)چیئرمین مترکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق نے کہا کہ شیخ رشید کو لال حویلی نہیں بلکہ اس کے ساتھ منسلک جگہ خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے،محکمہ اوقاف نے شیخ رشید کی لال حویلی سے متصل جگہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 15 روز میں خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔محکمہ اوقاف کی جانب سے شیخ رشید کو جاری نوٹس میں کہا گیا کہ لال حویلی سے متصل جگہ غیر قانونی اور تجاوزات میں شامل ہے اس لئے اسے خالی کیا جائے، لال حویلی کے ذمہ رقوم بھی ادا نہیں کی جا رہیں ٗاگر 15 روز میں کوئی قابل اطمینان جواب داخل نہ کرایا گیا تو لال حویلی کو خالی کرا لیا جائے گا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین مترکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق نے کہا کہ شیخ رشید کو لال حویلی نہیں بلکہ اس کے ساتھ منسلک جگہ خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے جس پر انہوں نے ناجائز قبضہ کیا۔صدیق الفاروق نے کہا کہ شیخ رشید نے لال حویلی سے منسلک متروکہ وقف املاک بورڈ کی جگہ پر قبضہ کیا ہماری جگہ ناجائز

طور پر حویلی میں شامل کی گئی، ان کے زیر قبضہ ہال اور کمرے ناجائز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے 10 مرلے پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے جن میں 5 مرلے کا ہال اور 6 دکانیں شامل ہیں اور دکانوں کے کرایہ داروں کو بھی جبری نکال دیا گیا تھا جبکہ شیخ رشید اور ان کے بھائی نے جگہ الاٹ کرنیکی درخواست بھی دی جسے مسترد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کے زیر قبضہ کروڑوں روپے کی سرکاری زمین ہے جس پر پرویز مشرف کے دور میں اقتدار کے نشے میں قبضہ کیا گیا، اسے خالی کرانا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈمنسٹریٹر نے پارلیمنٹ کے دئیے اختیارات کے مطابق فیصلہ سناتے ہوئے اس قبضہ کو ناجائز قرار دیا ہے۔دوسری جانب شیخ رشید کا محکمہ اوقاف کی جانب سے جاری نوٹس پر ردعمل میں کہنا تھا کہ 28 تاریخ کو لال حویلی میں ایک بڑا سیاسی شو ہونے جا رہا ہے جس میں عمران خان اور طاہر القادری بھی شریک ہوں گے، سیاسی شو کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ

انہیں جاری کیا گیا نوٹس بلا جواز ہے، وہ کسی نوٹس کو نہیں مانتے اور نہ ہی لال حویلی خالی کریں گے کیونکہ یہ حویلی ان کے آباؤ اجداد کی نشانی ہے، کل پریس کانفرنس کر کے اس حوالے تمام تفصیلات کو آگاہ کروں گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…