جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

کسی کی بیٹی گھر لاؤ تو خدا کے واسطے بیٹی بنا کے رکھو , مولانا طارق جمیل کا خوبصورت بیان

datetime 26  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے نوجوانوں اور ان کے والدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو چاہئے کہ اگر وہ کسی کی بیٹی کو بیاہ کر گھر لا رہے ہیں تو اسے بیٹی بنا کر رکھیں ، ایک عورت جب ماں ہوتی ہے تو روئیں روئیں سے محبت کے چشمے جاری ہوتے ہیں۔ جب وہ ساس بنتی ہے تو اس کے اندر زہر بھر جاتا ہے۔ وہ زہر کہاں سے لیکر آتی ہے؟ مجھے نہیں پتہ، لیکن میں اسی ماحول میں رہا ہوں ، ساس کا روپ ایک خوفناک روپ ہے، جب باپ ہوتا ہے تو شفقت کا سایہ ہوتا ہے۔ جب سسر ہوتا ہے تو گالی گلوچ کے سوا اسے کچھ نہیںآتا۔ معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ بھائیومیرانبی ﷺ یہ زندگی سکھاکر نہیں گیا۔ جس کی بیٹی لیکر آؤ، اسے بیٹی بنا کر گھر میں رکھو، اسلئے کہ شریعت نے آنے والی بچی کا حق رکھا ہے۔ اگر تم مالدار ہو اور وہ کہے کہ مجھے الگ گھر میں رکھو تو تمہارے ذمے ہے کہ تم اسے الگ گھر لیکر دو۔ اور اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو تمہارے ذمے ہے کہ اسے کرائے پر گھر لیکر دو، اگر اس کی بھی ہمت نہیں تو اپنے گھر میں پورا ایک پورشن اسے الگ کرکے دینا، اگر اس کی بھی ہمت نہیں تو ایک کمرہ ، ایک کچن اور ایک ٹوائلٹ آنے والی بچی کا حق ہے، اگر اس کی بھی ہمت نہیں تو نوجوان کو چاہئے کہ وہ شادی نہ کرے ، روزے رکھے اور تسبیح پڑھے، کسی بچی کو برباد نہ کرے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…