جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان تحریک انصاف کے امیر ترین مرکزی رہنماء جہانگیر ترین کتنی دولت کے مالک ہیں؟

datetime 25  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیر ترین کی دولت اور اثاثہ جات بارے حیرت انگیز انکشافات۔ تفصیل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیر ترین پاکستان کے چند امیر ترین افراد میں شمار کئے جاتے ہیں۔ نجی اخبار کے مطابق جہانگیر ترین کا شمار پاکستان کے امیر ترین سیاسی افراد میں ہوتا ہے۔ جہانگیر ترین کے پاس ہزاروں ایکڑ زرعی زمین ، ملک کی سب سے بڑی شوگر ملزاور ایک عدد شاندار ذاتی طیارہ بھی ہے ، واضح رہے کہ اسی طیارے میں سفر کرنے پر عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ جہانگیر ترین کے کل اثاثہ جات تقریباََ 1.18 ارب روپے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین نے رحیم یار خان میں اپنی پہلی شوگر مل اپنے سسر اور 70 اور 80 کی دہائی کی ایک نمایاں سیاسی شخصیت مخدوم حسن محمود سے وراثت میں پائی۔ جہانگیر ترین کے مخالفین کہتے ہیں کہ ان کے چینی کے کاروبار کو مشرف دور میں اس وقت بے پناہ فائدہ پہنچا جب وہ پانچ سال کے لیے وفاقی وزیر برائے صنعت تھے۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر ذرائع ابلاغ نے سوئٹزر لینڈ کے فنانشل تھنک ٹینک UBSکی سالانہ رپورٹ ورلڈ الٹرا ویلتھ رپورٹ 2013کے حوالے سے انکشاف کیا کہ گزشتہ برس کی نسبت حالیہ سال میں پاکستان میں امیر ترین افراد کی شرح میں 33.9فیصد اضافہ ہوا جو ایشیا میں ریکا رڈ اضافہ ہے گزشتہ برس پاکستان میں 310امیر ترین افراد تھے جن کے اثاثوں اور دولت کا تخمینہ40ارب ڈالر تھا جبکہ رواں برس پاکستان میں امیرترین افراد کی دولت کی شرح میں25فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ واضح رہے کہ پاکستان کا وفاقی مالی بجٹ 2013۔14کا کل حجم 36کھرب روپے ہے رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر انتہائی امیر ترین افراد وہ کہلاتے ہیں جن کی دولت یا اثاثوں کا تخمینہ3کروڑ ڈالر یا اس سے زیادہ ہے دنیا میں اس سال امیر ترین افراد کی تعداد199235ہے ، ایک ارب ڈالر سے زیادہ دولت کے حامل افراد کی تعداد 2170ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ ہے کہ دنیا میں اس سے قبل اتنے امیر ترین لوگ نہیں تھے جتنے اب ہیں دنیا میں گزشتہ 12ماہ میں امیر ترین افراد کی تعدا د میں اضافہ امریکا میں دیکھنے میں آیا جہاں 5 ہزار امیر ترین افراد اضافے کے ساتھ تعداد65505تک جا پہنچی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…