جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

’چائے والا‘ نے شہرت پاتے ہی وہ کام کر دیاکہ جان کر حیران رہ جائیں گے

datetime 23  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(ایکسکلوژرپورٹ) چائے والا ارشد خان نے شہرت پاتے ہی وہ کام کر دیا جس کا ڈر تھا۔ تفصیل کے مطابق سوشل میڈیا سے راتوں رات شہرت پانے والا ارشد خان ’چائے والا‘ شہرت ملتے ہی دوستوں کو بھول بیٹھا۔ چائے والا کے ڈھابے پر موجود اس کے دوست اور ساتھ کام کرنے والے اب چائے والا سے شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ارشد خان کے ایک دوست نے نجی ٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ارشد خان جس دن سے مشہور ہوا ہے اس کے طور طریقے ہی بدل گئے ہیں ا ور اب وہ ڈھابے پر آنا گوارا نہیں کرتا نہ ہی کسی سے ملتا ہے۔
واضح رہے کہ کچھ دن پہلے کی بات ہے جب اسلام آباد میں ایک فوٹوگرافر نے فوٹو واک کے دوران اس چائے والے کی ایک تصویر لی جس کے پیچھے پوری دنیا دیوانی ہوگئی۔ارشد خان نامی یہ نوجوان اب ریٹیل سائٹ فٹ ان کا ماڈل بن چکا ہے جس کی پہلی شوٹ بھی سامنے آچکی ہے۔نجی ٹی وی نے ارشد خان سے بات کی اور اس بات کا اندازہ لگایا کہ وہ شوبز کی دنیا میں باآسانی فٹ ہوسکتا ہے۔ارشد خان کی عمر صرف 18 سال ہے اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اپنا کیریئر شروع کرنے کے لیے یہ عمر بلکل صحیح ہے۔اس نوجوان کا تعلق کوہاٹ سے ہے جو اسلام آباد کے اتوار بازار میں 3 ماہ سے چائے بنانے کا کام کررہا ہے، ارشد نے کبھی اسکول کی تعلیم حاصل نہیں کی اور اس کے مطابق وہ اپنے والدین کی مرضی سے شادی کرنا چاہے گا۔اپنی پہلی فوٹو گراف کے حوالے سے ارشد کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتا کہ یہ کس نے لی تھی۔ تاہم جب میڈیا ارشد تک پہنچا تو وہ کافی گھبرا گیا اور اس کے ماموں بھی یہ سب دیکھ کر کافی پریشان ہوگئے کہ ا?خر میڈیا اس کے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے۔تاہم بعد ازاں انہیں اس بات کا علم ہوا کہ سب لوگ ’ارشد‘ کے خوبصورت ہونے کے باعث اسے پسند کررہے ہیں۔شروعات میں ارشد نے میڈیا کو خود سے دور کرنے کی کوشش کی، ان کے دوستوں نے ایک نجی ٹی وی سے 20 لاکھ جبکہ ایک اور ٹی وی چینل سے 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ رپورٹرز کو ارشد سے دور رکھ سکیں۔ارشد ایک پورے دن کے ضائع ہونے پر بھی کافی افسردہ رہا جبکہ اس ہی دوران اس کا فون بھی کھو گیا۔لیکن ایک ہی روز بعد اس چائے والے نوجوان کو ایسی مقبولیت مل گئی، جس نے اس کی زندگی بدل دی اور اب ایسا لگتا ہے کہ یہ بہت جلد فلموں اور ڈراموں میں کام کرتے نظر آئے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…