جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

غریب امیروں کی خدمت کیلئے پیدا ہوئے ہیں‘حکومتی رہنما کے بیان نے عوامی جذبات کو پاؤں تلے روند ڈالا

datetime 26  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر محمد یعقوب خان ناصر نے سینیٹ کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران کہا ہے کہ غریب امیروں کی خدمت کے لیے پیدا ہوئے ہیں، جس کے بعد ان کو کمیٹی کے دیگر ممبران کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔نجی ٹی وی کے مطابق میر کبیر احمد محمد ساہی کی صدارت میں میٹنگ شروع ہونے کے بعد ارکان نے کابینہ ڈویژن کے انچارج وزیر شیخ آفتاب اور ان کے سیکرٹری کی غیر موجودگی پر اعتراض کیا اور بتایا کہ انہوں نے گزشتہ اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی ٗجب انہیں فون کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ میٹنگ میں مصروف تھے۔اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے گفتگو کا آغاز کیا کہ ملک حکمران اور اشرافیہ کی ملکیت بن چکا ہے جبکہ تمام فیصلے امیروں کے حق میں کیے جاتے ہیں۔تاج حیدر نے کہاکہ سیکڑوں پاکستانیوں کو ملک کے مفاد کے نام پر مزدوروں کے طور پر بیرون ملک بھیجا گیا، جنہوں نے غیر ملکی زرمبادلہ بھیجا ٗ آئندہ چند سالوں میں یہ بھی ثابت کیا جائیگا کہ آف شور کمپنیاں بھی ملک کے مفاد میں بنائی گئی تھیں جبکہ اس ملک کے غریب عوام کبھی اپنی قسمت کا فیصلہ نہیں کرسکیں گے۔اس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر یعقوب خان نصر نے کہا کہ اگر سب ہی دولت مند بن جائیں گے، تو گندم اگانے کے لیے یا مزدور کے طور پر کام کرنے کے لیے کوئی نہیں بچے گا۔یعقوب خان ناصرنے کہاکہ یہ نظام خدا نے بنایا ہے جبکہ اس نے کچھ کو امیر اور بعض کو غریب بنایا ہے، ہمیں خدا کے کام میں دخل نہیں دینی چاہیے ۔یعقوب خان نصر کے اس بیان کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، سینیٹر تاج حیدر کا کہنا تھا کہ سماجی و اقتصادی تقسیم خدا نے نہیں بلکہ خود انسان نے کی ہے۔سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ خدا نے تمام انسانوں کو یکساں پیدا کیا اور غریب امیروں کی خدمت کرنے کے لیے نہیں بنائے گئے تاہم سینیٹر یعقوب نصر نے اس بات پر اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ چین میں بھی ایک بار ہر شخص کو یکساں مانا گیا تھا تاہم یہ عمل فائدہ مند ثابت نہیں ہوا۔وہ افراد جو تعلیم حاصل نہیں کرسکتے اور زیادہ نہیں کما سکتے ٗ انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ بیوروکریٹ جیسی زندگی بسر کریں اس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین نے امریکی صدر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے صدر اس ہی دکان سے خریداری کرتے ہیں جہاں سے ایک عام شخص اپنا سامان خریدتا ہے، اس کے علاوہ صدر کے بچے بھی پبلک اسکولز میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔اس پر یعقوب ناصر نے کہا کہ مساوات کے اصول پارلیمنٹ پر بھی لاگو نہیں ہوتے ٗ جیسے قومی اسمبلی کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز دیئے جاتے ہیں لیکن سینیٹرز کو نہیں ملتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…