لاہور(این این آئی )امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہاہے کہ سینٹ فنکشنل کمیٹی برائے حقوق انسانی کے اجلاس میں توہین رسالتؐ قانون پر عملدرآمد کے طریقے میں تبدیلی کے حوالے سے سفارشات کاتذکرہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت امرہے،توہین رسالتؐ قانون کوچھیڑاگیا توبھر پورانداز میں اس کی مخالفت کر یں گے،یہ عالمی دباؤ میں آکرملک کے اسلامی تشخص کو برباد کرنے کے مترادف ہے،تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون کے طریقہ کار کوتبدیل کرنے کی سازش کامقصد درحقیقت تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ناموس رسالتؐ کے قانون پر آنچ نہیں آنے دے گی۔بحیثیت مسلمان ہمارے ایمان اور محبت رسولؐ کاتقاضا ہے کہ ہم اس سازش کوناکام بنانے کے لیے اقدامات کریں۔کچھ لادینی قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان میں ناموس رسالتؐ قانون عملاً غیر فعال ہوجائے ۔دریں اثنامیاں مقصوداحمد نے سندھ کابینہ کی جانب سے علماء کرام کی مشاورت کے بغیردینی مدارس کی دوبارہ رجسٹریشن کے فیصلے پراپنے شدیدردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ ایک مخصوص لابی دینی مدارس اورعلماء کرام کے خلاف سرگرم ہے۔ان کے مذموم عزائم کبھی پورے نہیں ہوں گے۔ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مدارس جوکہ اسلام کے قلعے ہیں ان کوٹارگٹ کیا جارہاہے۔دینی مدارس سے تربیت یافتہ افراد نے ہمیشہ ملک وقوم کی خدمت کی ہے۔جب کبھی بھی ملک وقوم پر کڑاوقت آیا علماء کرام اور بلاامتیاز تمام مدارس اور ان میں پڑھنے والے لاکھوں طالب علموں نے محب وطن اور محب اسلام ہونے کاثبوت دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکمران مدارس کو نشانہ بناکر دین دشمن قوتوں کے لیے سہولت کارکاکرداراداکررہے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔دہشت گردی کو دینی مدارس سے جوڑنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ اس قانون کے مطابق مساجد ومدارس کی رجسٹریشن اور ان کی فنڈنگ کانیانظام وضع کیا جائے گا۔نئے قانون کے تحت سوسائٹیزایکٹ1860کے تحت رجسٹرڈمدارس کی رجسٹریشن کالعدم قرارپائے گی۔نئی رجسٹریشن محکمہ داخلہ اور صوبائی وزارت مذہبی امور کے سپرد کردی گئی ہے۔ایسے فیصلوں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکومت بوکھلاہٹ کاشکار ہے۔میاں مقصود احمد نے مزیدکہاکہ آئے روزنئے قانون بناکر مدارس کے طلبہ پر دینی تعلیم کاحصول مشکل بنادیا گیا ہے۔حکومت نے جونئی قانون سازی کرنی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ علماء کرام کو اعتماد میں لیا جائے۔پاکستان کی آزادی سے لے کر اس کی تعمیر وترقی تک علماء کرام اور دینی مدارس کا کلیدی کردار رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا مگر آج 69برس گزر جانے کے باجود اس میں شرعی قوانین کانفاذ نہیں ہوسکا۔ہم نے انگریزوں سے تو نجات حاصل کرلی مگر ان کے قوانین آج بھی نافذ العمل ہیں۔اب انگریزوں کے غلام حکمرانوں سے نجات کا وقت آگیا ہے۔
تحفظ ناموس رسالتؐ قانون کو چھیڑاگیا تو ۔۔۔! اہم جماعت نے نتائج سے خبردارکردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)
-
کن ممالک میں عید الفطر کا اعلان ہو گیا؟
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کیلئے اردو میں ہنگامی الرٹ ہدایات جاری
-
ایران نے جنگ کا نیا مرحلہ شروع کردیا
-
ترک خواتین نے مسجد فاتح میں دوپٹے مردوں پر پھینک دیئے،ویڈیووائرل
-
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر
-
عید الفطر کیلیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
خلیجی ممالک پر حملے، شہزادہ فیصل نے بڑا اعلان کر دیا
-
سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خبر آ گئی
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری
-
حکومت نے بجلی کے بلوں میں اضافی فکسڈ چارجز شامل کر دیئے
-
امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلی جنس کا پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق بیان مسترد



















































