ہفتہ‬‮ ، 13 جون‬‮ 2026 

پاکستانی شہریوں کے لئے سستے ترین گھر

datetime 19  جنوری‬‮  2016 |

لاہور( نیو زڈیسک)ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سعید احمد نے کہا ہے کہ وزیر اعظم بہت جلد کم آمدنی والے طبقے کو اپنی چھت مہیا کرنے کے منصوبے کے تحت 25ہزار گھروں کی تعمیر کا افتتاح کریں گے ،اس منصوبے میں گھروں کی کل مالیت کے چالیس فیصد قرضے کی گارنٹی وفاقی حکومت دے گی ،پاکستانی بینکوں کی طرف سے ہاؤسنگ فنانس کیلئے قرضہ جات دینے میں اتنی دلچسپی نہیں جتنی ہونی چاہیے تھی اور اس لحاظ سے پاکستان میں یہ شرح کم ترین ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسٹیٹ بینک کے زیر اہتمام گھروں کی مالی معاونت سے متعلق آگاہی پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایم ڈی بینکنگ سروسز کارپوریشن قاسم نواز ،ڈائریکٹر انفراسٹراکچر ہاؤسنگ اینڈ ایس ایم ایز غلام محمد ، ڈی جی فاٹا ،پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کیپٹن (ر) محمد سعید ، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے مس آمنہ منیر ، ریجنل چیئرمین ایف پی سی سی آئی میاں رحمان عزیز سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سعید احمد نے کہا کہ پاکستان میں جن لوگوں کو اصل میں چھت درکار ہے ان کیلئے کوئی سہولت میسر نہیں بلکہ یہاں ہمیشہ صاحب حیثیت لوگوں کو گھر بنانے کیلئے کروڑوں کے قرضے دئیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گھروں کی تعمیر کیلئے قرضہ دینے کی شرح سب سے کم ہے جو 0.46فیصد ہے جبکہ اس کے برعکس ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں یہ شرح 9فیصد ہے ،یورپ میں 60فیصد، برطانیہ میں 84فیصد اور امریکہ میں60فیصد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ریگولیٹری باڈی بنائی جائے گی جو ہاؤسنگ فنانس میں کام کرنے والے بینکوں کے اس کام کو مانیٹر کرے گی تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو مکمل سہولت کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ گھر مہیا ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غریب ملک ہے اس لئے حکومت جو بھی منصوبہ شروع کرے اس کی ماہانہ قسط چھ سے سات ہزار روپے ماہوار سے زائد نہیں ہونی چاہیے جبکہ اس منصوبے میں گھر کی لاگت 10سے 12لاکھ تک ہونی چاہیے تاکہ آسان اور چھوٹی اقساط بنائی جا سکیں۔ جو بینک بینک ہاؤسنگ فنانس میں قرض دے رہے ہیں ان کا مارک اپ کم ہونا چاہیے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جتنے بھی سیاستدانوں نے قرضے معاف کرائے ہیں اس میں اسٹیٹ بینک کا کوئی کردار نہیں بلکہ جو بینک قرض دیتا ہے یہ اسکی اپنی پالیسی ہوتی ہے ۔ اگر کوئی کوئی سیاسی شخص قرض واپس نہ کرے تو ہم بینک کو کہتے ہیں کہ اسے پورا کرنے کے لئے اپنے وسائل بڑھاؤ یا پھر بینک کو فروخت کر دیاجائے گا ۔ اسٹیٹ بینک ان سیاسی قرضہ جات کی واپسی نہ ہونے کی صورت میں پراسیکیوشن نہیں کرتا۔آگاہی پروگرام میں مختلف بینکوں کی جانب سے 21سٹالز لگائے گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…