اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

تین سالوں میں 12 مختلف اضلاع میں 50 ہزار لڑکیوں کو اسکول میں داخل کرانے کے منصوبے کا اعلان

datetime 11  اکتوبر‬‮  2015 |
Pakistani girls attend class at a school...Pakistani girls attend class at a school in Mingora, a town in Swat valley, on October 9, 2013, the first anniversary of the shooting of Malala Yousafzai by the Taliban. Yousafzai, the teenage activist nominated for the Nobel Peace Prize, says she has not done enough to deserve the award, as her old school closed October 9 to mark the first anniversary of her shooting by the Taliban. AFP PHOTO/A MAJEEDA Majeed/AFP/Getty Images

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت تین سالوں کے دوران ملک بھر سے 12 مختلف اضلاع میں 50 ہزار لڑکیوں کو اسکول میں داخل کیا جائے گا۔لڑکیوں کے حق حصول تعلیم کے پروگرام کا نفاذ مختلف غیر سرکاری اور سماجی تنظیموں کے ذریعے کیا جائے گا اور اس کے لیے 70 لاکھ ڈالر کی رقم ملالہ فنڈز کے ٹرسٹ سے فراہم کی جائے گی۔یہ ٹرسٹ 2014ء میں حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت “یونیسکو” نے مل کر شروع کیا تھا اور اس کا مقصد دور افتادہ علاقوں میں لڑکیوں کو تعلیم کی بہتر اور معیاری سہولت فراہم کرنا ہے۔پاکستان میں تعلیم کا شعبہ مختلف مسائل کا شکار رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف معیار تعلیم متاثر ہو رہا ہے بلکہ اسکولوں میں بچوں کے داخلے اور پھر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے سمیت اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے میں دشواریوں کا سامنا رہا ہے۔حکومت نے رواں سال ملک بھر میں داخلہ پروگرام شروع کیا تھا جس سے اس ضمن میں کسی حد تک بہتری دیکھی گئی لیکن عالمی سطح پر تعلیم کے لیے وضع کردہ اہداف حاصل کرنے کے لیے ایٹمی صلاحیت کے حامل اس ملک کو ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔تعلیم کے لیے کام کرنے والی ایک موقر غیر سرکاری تنظیم “الف اعلان” کے ایک عہدیدار ڈاکٹر جواد اقبال نے کہا کہ ملک کے 146 اضلاع میں کیے گئے تعلیمی جائزے کے مطابق بہت سے علاقوں میں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کے اسکول میں داخلے کی شرح انتہائی کم ہے اور اس تناظر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے شروع کیا جانے والا پروگرام خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسے مثال کے طور پر ملالہ کا تعلق سوات سے ہے تو اس سے قریبی علاقے شانگلہ میں آپ کو سن کر حیرت ہو گی کہ وہاں لڑکیوں کا ایک بھی کالج نہیں ہے۔یہ مسئلہ پورے ملک میں ہے اور اس سے سب سے زیادہ متاثر لڑکیاں ہوتی ہیں تو اس طرح کا پروگرام اگر شروع ہوتا ہے تو لڑکیوں کے اسکول میں داخلے کے لیے یہ بہت خوش آئند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کا تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھنے میں ایک بڑی وجہ مرد اساتذہ کی نسبت خواتین اساتذہ کی کم تعداد بھی ہے۔ ان کے بقول ایک اندازے کے مطابق اگر 60 لڑکوں کے لیے ایک استاد ہے تو دوسری طرف 90 لڑکیوں کے لیے ایک استانی ہے جب کہ معیاری تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ ایک استاد کے زیر نگرانی 40 بچے ہونے چاہئیں۔ڈاکٹر جواد کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کے علاوہ ایسے سنجیدہ اقدام پر بھی توجہ دے جس سے ان بچوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے سے محفوظ رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…