کراچی (نیوز ڈیسک)امریکی جریدہ”نیوزویک“ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے بارے خدشہ ہے کہ جنوبی ایشیاءکے دونوں ممالک جوہری جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیںاور اس ممکنہ منظر نامے کے بعد امریکا کی زمینی فوج کا صورتحال سے الگ تھلگ رہنا تقریباً نا ممکن ہو گا۔جنگ رپورٹر رفیق مانگٹ کے مطابق ایک ایٹمی تصادم جنوبی ایشیاءکیلئے بربادی لائے گااور خصوصاً عالمی معیشت کیلئے تباہ کن اور کرہ ارض کیلئے انتہائی خطرناک ہوگا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کا حقیقی امکان آج بھی موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق 5لاکھ50 ہزار جوانوں کے ساتھ پاکستانی فوج عددی حجم کے لحاظ سے اس وقت دنیا میں چوتھے نمبر پرہے۔اس فہرست میں16لاکھ فوجیوں کے ساتھ چین سرفہرست، 11لاکھ 50ہزار کے ساتھ بھارت دوسرے اور10لاکھ بیس ہزار کے ساتھ شمالی کوریا کی فوج تیسرے نمبر پر ہے جبکہ امریکا کی فوج 5لاکھ39 ہزار450جوانوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ لیکن حیران کن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سال دفاعی اخراجات کے لحاظ پاکستان دنیا کے پہلے بیس ممالک کی فہرست میں شامل نہیں۔ جبکہ امریکا دفاعی اخراجات کے لحاظ سے سرفہرست اور بھارت نویں نمبر پر ہے۔ جریدے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پہلے بھی تین سے چار جنگیں ہو چکی ہیں۔اس میں کارگل جنگ کو بھی شمار کیا جاسکتا ہے۔مستقبل میں جوہری تناز ع نے شدت اختیار کی تو جنگ بندی کیلئے ایک غیر ملکی فوجی کردار کا ممکنہ عمل دخل ہوسکتا ہے۔ کشمیر یا متعلقہ معاملات میں کسی بھی غیر ملکی سفارتی کردار سے دہلی آنکھیں چراتا ہے لیکن جوہری ہتھیار وں کا حقیقی استعمال اس بساط کو الٹ سکتا ہے اور صورتحال ڈرامائی ہو سکتی ہے۔ جریدہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ پر لکھتا ہے کہ کوئی بھی انتہا پسند گروپ یا واقعہ دونوں ممالک کو اس نازک موڑ پر لا سکتا ہے کہ نام نہاد کولڈ اسٹارٹ فوجی سوچ سے متاثر محدود بھارتی روایتی کارروائی بھی اسلام آباد، لاہور یاکسی دوسرے پاکستانی شہر کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ایسی صورت میں پاکستان بھارتی فوج، اس کی سہولتوں اور دیگر ٹیکنیکل اہداف کیخلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے فوجی منطق کی طرف دیکھ سکتاہے۔اگر جوہری اثرات کے ساتھ بھارت پاکستان کی جنگ شروع ہوئی تو ایسی صور ت میں بین الاقوامی مذاکرات کار شامل ہو جائینگے۔ یہ تجویز بھی پیش کی جاسکتی تاہم یہ ایک تصور ہے کہ ایک بین الاقوامی قوت کئی سال تک صورتحال کو مستحکم کرنے کیلئے خطے میں رہے۔ کشمیر اقوام متحدہ کے مینڈیٹ میں دیا جاسکتا ہے ، خطے کے مستقبل کے سیاسی حیثیت کے تعین کیلئے جب تک انتخابات کے تحت فیصلہ نہیں ہوتا، اقوام متحدہ کی فوج کشمیر میں رہے۔جوہری تنازع کی صورت میں دونوںا طراف کا کوئی بھی رہنما ایک قابل اعتماد سیاسی عمل کی غیر موجودگی میں جنگ بندی کا ایک سادہ حل قبول نہیں کرے گا۔ دونوں ممالک میں سیاسی ٹرانزیشن اور کشیدگی میں کمی لانے کیلئے یہ مشن ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک طوالت اختیار کرسکتا ہے۔ خاص طور پر بھارت آج اس خیال کے سخت خلاف ہو گا لیکن جنوبی ایشیاءمیں جوہری جنگ کی صورت سے معاملات تبدیل ہو جائیں گے۔ اس صورتحال میں امریکی افواج کا کردار اہم ہوگا کسی دوسرے کے پاس یہ صلاحیت یا مشن کو سنبھال کیلیے سیاسی اعتماد نہیں ہو سکتا۔ تاہم ایک بین الاقوامی فورس کی ایک مدت کیلئے ضرورت ہو سکتی ہے
پاکستان اور بھارت جوہری جنگ کے دہانے پرپہنچ سکتے ہیں، امریکی جریدہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کے مفت صارفین کیلئے بہت بڑا تحفہ
-
طالبعلم نے گھر میں دادا دادی کو ہلاک کیا پھر سکول جاکر 5ٹیچرز کو مارا، ہوشربا تفصیلات
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
موسم کا تیور بدل گیا، ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان
-
سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ
-
زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیشرفت، ہنی ٹریپ کرنیوالی ٹک ٹاکر گرفتار
-
پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی



















































