بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

شہبازشریف اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے بارڈر مارکیٹ، ٹرانسمیشن لائن کا افتتاح کردیا

datetime 18  مئی‬‮  2023 |

پشین /کوئٹہ (این این آئی)وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے مند پشین بارڈر کراسنگ پوائنٹ پر مند پشین بارڈر مارکیٹ پلیس اور پولانـگبد بجلی ٹرانسمیشن لائن کا مشترکہ طور پر افتتاح کردیا۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے عندیے کے طور پر بارڈر مارکیٹ کے احاطے میں ایک پودا بھی لگایا۔

اس موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر توانائی خرم دستگیر، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور پاکستان اور ایران کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔بعدازاں پاک ایران سرحد پر وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ دوطرفہ معاملات پر مفید گفتگو ہوئی، دونوں اطراف سے سنجیدگی کے ساتھ اس بات کا برملا اظہار کیا گیا کہ ہمیں تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، ذراعت اور دیگر معاشی میدانوں میں ہمیں آگے بڑھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ طے کیا گیا کہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے گی، ایران سے بجلی کی ترسیل میں بہت گنجائش بہت موجود ہے، اس میں مل کر مزید آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے، ایرانی صدر نے شمسی توانائی کے شعبے میں مل کر تیزی سے آگے بڑھے کی بھی یقین دہانی کروائی، میں نے سی پیک کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کیں، اس طرح بہت مفید ہوئی اور ان شا اللہ ہم اس پر عملدرآمد کے لیے تیزی سے قدم اٹھائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں اطراف پر پشین مند مارکیٹ کا افتتاح بھی کیا گیا، بہترین سامان دکانوں میں موجود تھا، اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھے گی اور ملحقہ علاقوں میں ترقی اور خوشحالی بھی ہوگی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاک ایران مشترکہ سرحد کے ساتھ تعمیر کی جانے والی 6 سرحدی مارکیٹوں میں سے ایک، مندـپشین بارڈر مارکیٹ پلیس سرحد پار تجارت کو بڑھانے، اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور مقامی کاروبار کے لیے مواقع کی نئی راہیں کھولنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پولانـگبد ٹرانسمیشن لائن ایران سے اضافی 100 میگاواٹ بجلی کی ترسیل ممکن بنائے گی جو گھروں اور کاروباری اداروں سمیت خطے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ مشترکہ افتتاح بلوچستان اور سیستان و بلوچستان کے رہائشیوں کی فلاح و بہبود کے لیے پاکستان اور ایران کے مضبوط عزم کا مظہر ہے، یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان 959 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو کوہِ ملک صالح پہاڑ سے شروع ہوتی ہے اور خلیج عمان میں گوادر خلیج پر ختم ہوتی ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم اس وقت تقریباً 2 ارب ڈالر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…