پیر‬‮ ، 02 فروری‬‮ 2026 

شہبازشریف اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے بارڈر مارکیٹ، ٹرانسمیشن لائن کا افتتاح کردیا

datetime 18  مئی‬‮  2023 |

پشین /کوئٹہ (این این آئی)وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے مند پشین بارڈر کراسنگ پوائنٹ پر مند پشین بارڈر مارکیٹ پلیس اور پولانـگبد بجلی ٹرانسمیشن لائن کا مشترکہ طور پر افتتاح کردیا۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے عندیے کے طور پر بارڈر مارکیٹ کے احاطے میں ایک پودا بھی لگایا۔

اس موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر توانائی خرم دستگیر، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور پاکستان اور ایران کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔بعدازاں پاک ایران سرحد پر وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ دوطرفہ معاملات پر مفید گفتگو ہوئی، دونوں اطراف سے سنجیدگی کے ساتھ اس بات کا برملا اظہار کیا گیا کہ ہمیں تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، ذراعت اور دیگر معاشی میدانوں میں ہمیں آگے بڑھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ طے کیا گیا کہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے گی، ایران سے بجلی کی ترسیل میں بہت گنجائش بہت موجود ہے، اس میں مل کر مزید آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے، ایرانی صدر نے شمسی توانائی کے شعبے میں مل کر تیزی سے آگے بڑھے کی بھی یقین دہانی کروائی، میں نے سی پیک کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کیں، اس طرح بہت مفید ہوئی اور ان شا اللہ ہم اس پر عملدرآمد کے لیے تیزی سے قدم اٹھائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں اطراف پر پشین مند مارکیٹ کا افتتاح بھی کیا گیا، بہترین سامان دکانوں میں موجود تھا، اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھے گی اور ملحقہ علاقوں میں ترقی اور خوشحالی بھی ہوگی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاک ایران مشترکہ سرحد کے ساتھ تعمیر کی جانے والی 6 سرحدی مارکیٹوں میں سے ایک، مندـپشین بارڈر مارکیٹ پلیس سرحد پار تجارت کو بڑھانے، اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور مقامی کاروبار کے لیے مواقع کی نئی راہیں کھولنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پولانـگبد ٹرانسمیشن لائن ایران سے اضافی 100 میگاواٹ بجلی کی ترسیل ممکن بنائے گی جو گھروں اور کاروباری اداروں سمیت خطے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ مشترکہ افتتاح بلوچستان اور سیستان و بلوچستان کے رہائشیوں کی فلاح و بہبود کے لیے پاکستان اور ایران کے مضبوط عزم کا مظہر ہے، یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان 959 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو کوہِ ملک صالح پہاڑ سے شروع ہوتی ہے اور خلیج عمان میں گوادر خلیج پر ختم ہوتی ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم اس وقت تقریباً 2 ارب ڈالر ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…