اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

خدانخواستہ رمضان المبارک میں وائرس پھیلا تو مساجد کو بند کرنا پڑیگا ایک یا دو ماہ تک کیا ہو سکتا ہےاور صورتحال کب بہتر ہو گی ؟ غریب لوگوں کو کیسے بچانا ہے ، یورپ اور ترکی کے حالات دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے فیصلہ سنا دیا

datetime 21  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کو زبردستی مساجد میں جانے سے نہیں روک سکتے تاہم اگر رمضان المبارک میں کورونا وائرس پھیلا تو مساجد کو بند کرنا پڑے گا،جن ممالک میں روزانہ دن میں پانچ، پانچ سو لوگ مر رہے ہیں وہاں لاک ڈائون میں ترکی کے حوالے سے بات ہورہی ہے ،ہمارے ملک میں بدقسمتی سے 192لوگ فوت ہو چکے ہیں ، اس کا امریکا سے موازنہ کر لیں

جہاں 40ہزار لوگ کورونا کی وجہ سے مرچکے ہیں ،اٹلی اسپین میں بھی 20، 20ہزار لوگ مر چکے ہیں،ہماری معیشت جس مشکل وقت میں پھنس گئی ہے ہمیں تواپنے لوگوں کو غربت اور بھوک سے بچانا ہے،کسی بھی معاشرے میں لاک ڈاؤن غیرمعینہ مدت تک نہیں چل سکتا،اس وقت کسی کو بھی نہیں پتہ کہ ایک یا دو مہینے کے بعد کیا ہو گا اور صورتحال کب بہتر ہوگی ؟،ٹائیگر فورس میں شامل افراد رضاکارانہ بنیادوں پر کام کریں گے اور ان کو کسی بھی قسم کی تنخواہ یا رقم ادا نہیں کی جائے گی جبکہ یہ افراد غریب لوگوں تک پہنچ کر انہیں راشن وغیرہ فراہم کریں گے۔ منگل کو کورونا وائرس کے حوالے سے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جن ممالک میں روزانہ دن میں پانچ، پانچ سو لوگ مر رہے ہیں اور امریکا میں روزانہ 2ہزار سے زائد لوگ مر رہے ہیں وہاں اب لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ ان ملکوں میں بحث چل رہی ہے کہ ایک طرف عوام کو کورونا سے بچانے کے لیے لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے اور دوسری جانب اس لاک ڈاؤن کے معاشرے پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور انہوں نے کہا کہ اب ان ملکوں میں بھی بحث بحث چل رہی ہے کہ لاک ڈاؤن میں کتنی نرمی کی جائے تاکہ لوگوں کو بھی کورونا سے بچایا جا سکے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جن ملکوں میں دن میں 500، 600 لوگ مر رہے ہیں، انہوں نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے، کئی چیزیں کھول دی ہیں، آسانیاں پیدا کی ہیں تاکہ لوگ باہر نکل سکیں۔انہوںنے کہاکہ

ہمارے ملک میں بدقسمتی سے 192لوگ فوت ہو چکے ہیں لیکن اس کا امریکا سے موازنہ کر لیں جہاں 40ہزار لوگ کورونا کی وجہ سے مرچکے ہیں جبکہ اٹلی اسپین میں بھی 20، 20ہزار لوگ مر چکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ ملک لاک ڈاؤن میں نرمی کا سوچ رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں لاک ڈاؤن غیرمعینہ مدت تک نہیں چل سکتا کیونکہ کسی کو بھی نہیں پتہ کہ

اس پر قابو پانے میں کتنا وقت لگے گا۔انہوںنے کہاکہ اس وقت کسی کو بھی نہیں پتہ کہ ایک یا دو مہینے کے بعد کیا ہو گا اور یہ بھی نہیں پتہ کہ اگر بالفرض آج یہ کیسز کم بھی ہو گئے تو ان کے ایک مہینے بعد دوبارہ بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے اس لیے دنیا کی تمام اقوام لاک ڈاؤن کر کے عوام کو بچانے کے ساتھ ساتھ ملک چلانے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہیں۔وزیر اعظم نے مساجد بند نہ کرنے کے فیصلے کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ

ہم ایک آزاد قوم ہیں، جب پولیس لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈنڈوں سے مار رہی تھی تو مجھے یہ دیکھ کر کافی تکلیف ہوئی۔انہوںنے کہاکہ رمضان عبادت کا وقت ہے، ہماری قوم مساجد میں جانا چاہتی ہے تو کیا ہم ان لوگوں کو زبردستی کہیں کہ آپ مساجد میں نہ جائیں اور کیا پولیس مساجد میں جانے والوں کو جیلوں میں ڈالے گی؟، ایک آزاد معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ لوگ خود فیصلہ کرتے ہیں کہ

ملک کے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی جنگ پورا ملک لڑ رہا ہے، یہ امیر غریب یا طاقتور کمزور کسی کو بھی ہو سکتا ہے لہٰذا ضروری یہ ہے کہ لوگ خود اس جنگ میں شرکت کریں اور یہ تب جیتی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے علما سے ملاقاتیں اور مشاورت کی، صدر مملکت عارف علوی نے علماء کے ساتھ بیٹھ کر 20نکات پر اتفاق کیا جن پر عمل کر کے ہی اب لوگ مساجد میں

جا سکیں گے۔وزیراعظم نے رمضان میں تمام پاکستانیوں سے گھروں میں بیٹھ کر عبادت کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے باقی مسلمان ممالک میں بھی عوام کو گھروں میں عبادت کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے لیکن اگر مسجد میں جانا ہے تو طے شدہ شرائط پر پورا عمل کرنا ہو گا اور اگر رمضان میں وائرس پھیلتا ہے تو ہمیں ایکشن لیتے ہوئے مساجد کو بند کرنا ہو گا۔انہوںنے کہاکہ ہم نے پاکستان میں فیصلہ کیا کہ

سیمنٹ انڈسٹری سے شروع کریں اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آہستہ آہستہ مزید صنعتیں کھولیں اور تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد اس عمل کو توسیع دے رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ مغرب، یورپ، امریکا اور دیگر ممالک کو معیشت کو ٹھیک کرنے کا مسئلہ درپیش ہے اور ہمارا مسئلہ ہے کہ ہماری معیشت جس مشکل وقت میں پھنس گئی ہے تو ہمیں اپنے لوگوں کو غربت اور بھوک سے بچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ

اپنے ملک کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم مسلسل آپس میں مشاورت کررہے ہیں کہ کس طرح سے ہم اپنے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں۔وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ٹائیگر فورس میں شامل افراد رضاکارانہ بنیادوں پر کام کریں گے اور ان کو کسی بھی قسم کی تنخواہ یا رقم ادا نہیں کی جائے گی جبکہ یہ افراد غریب لوگوں تک پہنچ کر انہیں راشن وغیرہ فراہم کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ وباء کا پھیلائو روکنے کیلئے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے، اس حوالہ سے حکومت تمام وسائل اور اقدامات بروئے کار لار ہی ہے، قوم کورونا کو شکست دینے کیلئے متحد ہو کر لڑے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…