جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

اب تو گاڑیوں پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے ،لگتا ہے بندر کے ہاتھ میں استرا آ گیا ہے، زر داری کی حکومت پر تنقید

datetime 2  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی شریک چیئر مین ،سابق صدر آصف زرداری نے وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تو گاڑیوں پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے اس لیے لگتا ہے بندر کے ہاتھ میں استرا آ گیا ہے، رانا ثناء اللہ کے ساتھ ظلم ہوا ہے ، ان پر لگایا جانے والا الزام بھونڈا ہے ،کیا رانا ثناء اللہ اپنی گاڑی میں منشیات لے کر جائیں گے؟

مجھ پر بھی ایسا ہی منشیات کا کیس بنایا گیا تھا، مجھے منشیات کیس سے نکلتے 5 سال لگ گئے۔ منگل کو احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کے ساتھ جو ہوا وہ ظلم ہے، اس کی مذمت کرتا ہوں، ان پر لگایا جانے والا الزام بڑا بھونڈا ہے۔سابق صدر نے سوال کیا کہ کیا رانا ثناء اللہ اپنی گاڑی میں منشیات لے کر جائیں گے؟ مجھ پر بھی ایسا ہی منشیات کا کیس بنایا گیا تھا، مجھے منشیات کیس سے نکلتے 5 سال لگ گئے، میرے کیس میں برآمدگی کوئی نہیں تھی، اس کیس میں ڈالی گئی ہے۔آصف زرداری نے کہاکہ میرے کیس کی سزا بھی سزائے موت تھی اور رانا ثناء اللہ پر بنائے گئے کیس کی سزا بھی موت ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے میری گرفتاری لی نہیں، میں نے گرفتاری دی ہے، یہ گرفتاریاں ہوتی رہیں گی تاہم ہم مقابلہ کریں گے اور گرفتاری دے کر بھی ہم مقابلہ کررہے ہیں۔سابق صدر نے کہا کہ اب تو انہوں نے آپ کی گاڑیوں پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے، ان سے ملک چل نہیں رہا، لگتا ہے بندر کے ہاتھ میں استرا آ گیا ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ نے وزیراعظم کی تقریر سنی؟ جس پر آصف زرداری نے کہا کہ بونگے کی باتیں میں کیوں سنوں، میرے پاس وقت نہیں۔

سابق آصف زرداری نے کہا کہ ایک اعلیٰ شخصیت کے خلاف لندن میں ایک کیس بن رہا ہے، یہ کیس امریکا تک جائے گا، اس کیس کی تحقیقات لندن اور امریکا میں ہو رہی ہیں، جب ہماری حکومت آئے گی تو نیب اس کیس کا نوٹس لے گا، میرے انٹرویو میں یہ ہی تو اصل بات تھی۔انہوں نے کہا کہ فل الحال اس حکومت کو طاقتور قوت کی سپورٹ ہے، سیاستدانوں اور میڈیا کو کمزور لوگ قابو کرتے ہیں اور یہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے سوال پر سابق صدر نے جواب دیے بغیر خدا حافظ کہہ کر چلے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…