جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

مجھے پکڑنے سے فرق نہیں پڑیگا ،حساب کتاب بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے، آصف زر داری کامشورہ

datetime 20  جون‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین ،سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ مجھے پکڑنے سے فرق نہیں پڑے گا ،حساب کتاب بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے ، سب رورہے کوئی وجہ تو ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں اس سے زیادہ ٹیکس بڑھا دیا، صنعتکار خوفزدہ ہے کہ پانچ لاکھ چیک پر حساب دینا ہوگا ۔

کون کون حساب دیگا؟ ایسا نہ ہو مہنگائی سے تنگ عوام نکل آئیں اور سیاسی جماعتیں پیچھے رہ جائیں ، ایسا نہ ہوسیاسی طاقتوں سے بھی یہ گیند نکل جائے، جو طاقتیں لے کر آئی ہیں انہیں بھی سوچنا چاہیے۔ جمعرات کو سابق صدر آصف زرداری پروڈکشن جاری ہونے پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے اور بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ پہلے تو پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے پر سپیکر آفس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ میں اختر مینگل، ایم کیو ایم ،اپوزیشن لیڈر اور دیگر جماعتوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے پروڈکشن آرڈر کیلئے کوشش کی ۔ انہوں نے کہاکہ سانگھڑ پر اس وقت کپاس کی فصل پر ٹڈی دل کا حملہ ہوا ہے ،حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی کوشش نہیں کی گئی۔انہوں نے کہاکہ کہیں اور ایسا ہوتا تواب تک توسعودی عرب سے امداد آجاتی ہے، ملک کے معاشی مسائل سب کے اور مشترکہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بجٹ ان کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے معاشی مسائل سب کے اور مشترکہ ہیں ،پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، پاکستان نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے نہ کھپے کے نعرے کے وقت پاکستان کھپے کی بات کی۔انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف سے پیسے مل رہے ہیں تو لوگ کیوں رو رہے ہیں۔

ہر انڈسٹری کے بڑے بڑے ایڈ آرہے ہیں کہ ہمیں بچاؤ۔ انہوں نے کہاکہ آئیں حکومت اپوزیشن ملکر معیشت پر کو ئی معاہدہ کرلیں ۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ کی بات کریں تو سب رو رہے ہیں ، کوئی وجہ تو ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں لیکن اس سے زیادہ ٹیکس بڑھا دیا ۔ انہوں نے کہاکہ صنعتکار خوفزدہ ہے کہ پانچ لاکھ چیک پر حساب دینا ہوگا ،کون کون حساب دے گا ۔ انہوںنے کہاکہ حساب کتاب کو چھوڑو ،آگے بڑھو ۔ سابق صدر نے کہاکہ میرے پکڑنے سے پارٹی مضبوط ہوگی ،مجھے پکڑنے سے فرق نہیں پڑے گا ۔ انہوں نے کہاکہ لوگ سوچتے ہیں اگر زرداری کو پکڑا جاسکتا ہے تو پھر انہیں کیوں نہیں ؟۔سابق صدر نے کہاکہ جو انہیں لائے ہیں انہیں بھی سوچنا چاہئے ،ایسا نہ ہو مہنگائی سے تنگ عوام نکل آئیں اور سیاسی جماعتیں پیچھے رہ جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک ہے تو ہم ہیں ،ملک نہیں تو کچھ نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ میں پہلے بھی جیل سے آتا رہا ہوں، آج پھر یادیں تازہ ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام کا دوستوں کا شکریہ جنہوں نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا،ان کا یہ احسان میں زندگی بھر یاد رکھوں گا

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…