جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

واہ فیکٹری پر حملے سے متعلق سیکورٹی وارننگ تھی،ٹیکسلا میں ہلاک ہونیوالے دہشت گرد کون تھے؟تعلق کہاں سے تھا؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 1  مئی‬‮  2017 |

راولپنڈی(نیوزڈیسک)دہشت گردوں کی شناخت چارسدہ کے رہائشی صفت اللہ اور پشاور کے رہائشی محمد عباس کے نام سے ہوئی،صفت اللہ کپڑے کے تاجر کے روپ میں رہ رہا تھا،ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ مزید دو دہشت گرد کارروائی کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جن کی تلاش جاری ہے۔ٹیکسلا میں حساس اداروں اوردہشت گردوں میں فائرنگ کا تبادلہ،متعددہلاک،

تفصیلات کے مطابق ٹیکسلا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ملزمان کے قبضے سے خودکش جیکٹ،دستی بم اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا،دو ملزمان کے فرار ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے ٹیکسلا اور واہ کینٹ کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا،اسی دوران ٹیکسلا کے علاقے ایمن آباد میں ایک زیر تعمیر گھر میں چھپے دہشت گردوں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی،جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد مارے گئے،دہشت گردوں کے قبضے سے خودکش جیکٹ،چار دستی بم، ایس ایم جی اور پستول برآمد ہوئے۔واضح رہے کہ وزرات داخلہ کو حساس اداروں کی جانب سے رپورٹ موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ پی او ایف واہ میں یوم مزدور کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔حساس اداروں نے وزارت داخلہ کو رپورٹ بھیجی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ارڈیننس فیکٹری واہ میں دہشت گردی کا خطرہ ہے اور یوم مزدور کی مناسبت سے منعقدہ تقریب پر دہشت گرد کارروائی کرسکتے ہیں لہذا تقریب میں مدعو وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار اور دیگر 2 وفاقی وزرا تقریب میں شرکت سے گریز کریں۔دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ایجنسیاں اگر حساس اداروں کو بھی محفوظ نہیں کرسکتیں تو ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہو گا،

اگر پی او ایف کے مزدور محفوظ نہیں تو ہمیں بھی اپنے تحفظ کی پرواہ نہیں۔چوہدری نثار نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے یکم مئی کو پی او ایف ملازمین کی تقریب ہورہی ہے اس روایت کو کسی صورت رکنے نہیں دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…