جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

حقانی نیٹ ورک،امریکہ اور افغانستان کے الزامات نظر انداز،پاکستان نے دوٹوک پالیسی کا اعلان کردیا

datetime 28  مارچ‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن (آئی این پی )امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دیے جانے کی بات چند ذہنوں کی سوچ ہے اور اِس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ واشنگٹن میں برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات معطل کرتا ہے تو اِس سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے بارے

میں اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ ’وہ ہمارے دوست نہیں ہیں اور نہ ہماری پراکسی ہیں۔ اور نہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ کسی قسم کا تشدد کریں، کسی کے خلاف بھی، امریکہ کے خلاف یا افغانستان کے خلاف۔ عام انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنا درست نہیں ۔اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے جس طریقے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ہے کوئی اور قوم ایسی نہیں کر سکتی کہ کس طریقے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کیا، کس طریقے سے افغان جہاد کے زمانے سے پیدا ہونے والے مسائل کو ختم کیا۔ایک سوال کے جواب میں اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کی بات چند ذہنوں کی سوچ ہے اور اِس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ چند لوگوں کی سوچ ہے جو اس طرح کی خبروں کو ان کی اصل حقیقت سے بڑھ کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ نے صدر ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں خیالات جاننے ہیں تو اس بیان کو پڑھیں جو انھوں نے پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ بات چیت کے دوران دیا ۔حافظ سعید کی نظربندی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کی سرزمین سے کوئی بھی منفی پیغام باہر جائے۔ہمارا پیغام بہت واضح ہے، ہم ہندوستان کے ساتھ امن اور سلامتی کا رشتہ چاہتے ہیں،

دوستانہ ماحول چاہتے ہیں۔ باہمی احترام کی بنیاد پر پر امن تعلقات چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان اور ہندوستان امن کی جانب بڑھتے ہیں دہشت گرد کوئی کارروائی کر دیتے ہیں اور جب ہندوستان بات چیت روک دیتا ہے تو اس سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہوتی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…