جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

حقانی نیٹ ورک،امریکہ اور افغانستان کے الزامات نظر انداز،پاکستان نے دوٹوک پالیسی کا اعلان کردیا

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی )امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دیے جانے کی بات چند ذہنوں کی سوچ ہے اور اِس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ واشنگٹن میں برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات معطل کرتا ہے تو اِس سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے بارے

میں اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ ’وہ ہمارے دوست نہیں ہیں اور نہ ہماری پراکسی ہیں۔ اور نہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ کسی قسم کا تشدد کریں، کسی کے خلاف بھی، امریکہ کے خلاف یا افغانستان کے خلاف۔ عام انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنا درست نہیں ۔اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے جس طریقے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ہے کوئی اور قوم ایسی نہیں کر سکتی کہ کس طریقے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کیا، کس طریقے سے افغان جہاد کے زمانے سے پیدا ہونے والے مسائل کو ختم کیا۔ایک سوال کے جواب میں اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کی بات چند ذہنوں کی سوچ ہے اور اِس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ چند لوگوں کی سوچ ہے جو اس طرح کی خبروں کو ان کی اصل حقیقت سے بڑھ کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ نے صدر ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں خیالات جاننے ہیں تو اس بیان کو پڑھیں جو انھوں نے پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ بات چیت کے دوران دیا ۔حافظ سعید کی نظربندی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کی سرزمین سے کوئی بھی منفی پیغام باہر جائے۔ہمارا پیغام بہت واضح ہے، ہم ہندوستان کے ساتھ امن اور سلامتی کا رشتہ چاہتے ہیں،

دوستانہ ماحول چاہتے ہیں۔ باہمی احترام کی بنیاد پر پر امن تعلقات چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان اور ہندوستان امن کی جانب بڑھتے ہیں دہشت گرد کوئی کارروائی کر دیتے ہیں اور جب ہندوستان بات چیت روک دیتا ہے تو اس سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…