جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کی زبردست ترقی کا عالیشان منصوبہ۔۔اسلام آباد میں بلند ترین حیران کن عمارت کی تعمیر کا فیصلہ ، عمارت کانام کیا ہوگا؟

datetime 7  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے اسلام آباد میں سی پیک ٹاور کی تعمیر کیلئے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک ٹاور کی بلند ترین عمارت پاک چین دوستی کی علامت ہوگی ، پلاننگ کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی اس منصوبے پر کام کرے گی ۔ وہ پیر کویہاں مقامی ہوٹل میں سی پیک کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا سی پیک 50ارب کی سرمایہ کاری کادنیا

کا سب سے بڑا منصوبہ بن کر ابھر چکا ہے ، یہ پاکستان اور ایشیا کیلئے نمایاں اہمیت کا حامل منصوبہ ہے ۔انہوں نے کہا یہ منصوبہ کوئی عام منصوبہ نہیں بلکہ 2014سے لیکر 2030کا منصوبہ ہے ، پہلے اس منصوبے کے تحت پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنایا جائے گا اور پاکستان کی معاشی شرح نمو کو بلند ترین سطح پر لے کر جائیں گے ، اس منصوبے کے تحت اب سب سے زیادہ زور انرجی سیکٹر پر دیا جائے گا ، پاکستان میں لوڈ شیڈنگ میں کافی کمی آئی ہے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ گوادر کو سی پیک کا گیٹ وے بنانے کیلئے سوشل منصوبے شامل کئے گئے جو تقریباً مکمل ہو گئے ہیں ، فری اقتصادی زون کے پہلے فیز پر کام شروع ہے جو جلد مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا گوادر اب قصبہ نہیں بلکہ ایک ترقی یافتہ شہر بن چکا ہے وہاں پر سکول، یونیورسٹی ، ہسپتال اور دیگر اہم منصوبے شروع ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا سی پیک پاکستان کو خطے سے جوڑنے کا ذریعہ ہے ،ہمیں سب سے پہلے ڈویلپمنٹ پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے ڈویلپمنٹ سب سے اہم ہوتی ہے لیکن یہ ٹی ٹوئنٹی نہیں ٹیسٹ میچ ہے جس کیلئے ہمیں مستقل مزاجی اور جذبہ چاہیے ہوگا ۔انہوں نے کہا اب تو غیر ملکی محقق بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے بہت سے مواقع گنوائے مگر سی پیک کو ہاتھوں سے نہیں جانے دیا ، یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جسے کبھی بھی نظر انداز نہیں

کیا جا سکتا۔احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کی وجہ سے ہمارے ہمسائے ہمارے دشمن بن گئے ہیں جن سے مقابلے کیلئے ہمیں مل کر اپنی معیشت کو مزید مضبوط کرنا ہوگا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…