منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

آئین کے اصل محافظ ہم نہیں بلکہ وہ ہیں جن کو عوام منتخب کرکے پارلیمان میں لاتی ہے،سپریم کورٹ

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

بنیادی ڈھانچہ اور عدلیہ کی آزادی یہ دو ایسے کردار ہیں جن کو اگر نکال دیاجائے تو کوئی بھی کام اپنی اصل حالت میں قائم نہیں رہے گا ۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ہم پہلے اٹھارہویں ترمیم پر بحث مکمل کرینگے اس کے بعد اکیسویں ترمیم پر بحث کا آغاز ہوگا ۔ آپ کوشش کریں اگلے روز وقفے سے قبل اپنے دلائل مکمل کریں حامد خان نے کہا کہ بنیادی آئینی ڈھانچے کا معاملہ پارلیمنٹ کمیٹی کی ججز کی تقرری میں کردار اتنے وسیع موضوع ہیں کہ جن پر بحث طویل ہوسکتی ہے ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اس سوال کا جواب دیں کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں ترمیم کسی مینڈیٹ کے بغیر لائی جاسکتی ہے کیا یہ موجودہ اسمبلی ایسا کرسکتی ہے کیا اس کے لئے نئی اسمبلی کی ضرورت نہیں پڑے گی پارلیمنٹ اور دستور ساز اسمبلی میںفرق کیا جانا ضروری ہے موجودہ پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کا تو اختیار ہے مگر آئین سازی کا نہیں اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ قوم نئی پارلیمنٹ کے ذریعے آئین تبدیل کرسکتی ہے آئین کو تبدیل کرنے میں کوئی پابندی نہیں ہے اس پر حامد خان نے کہا کہ یہ تو معاملات دیکھنے ہونگے کہ کس طرح یہ تبدیلیاں ہوسکتی ہیں ۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ یہ درست ہے کہ یہ عدالت آئین کی محافظ ہے مگر دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا ہم کثرت رائے سے ہونے والے فیصلوں کو مسترد یا رد کرسکتے ہیں ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئین میں ترمیم سے پہلے عوام کی رائے جاننا بے حد ضروری ہے کیونکہ جب تک ان کی رائے معلوم نہیں ہوگی تبدیلی کیسے آئے گی ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ آئین کے محافظ صرف ہم ہی ہیں اصل محافظ وہ ہیں جن کو عوام منتخب کرکے پارلیمان میں لاتی ہے ۔ نمائندے عوام کی منشاءکے مطابق ترمیم کریں تو وہ دوبارہ منتخب ہوسکتے ہیں حامد خان نے پارلیمانی کمیٹی کے کردار عدلیہ کی آزادی بارے کئی دیگر ممالک کے عدالتوں کے فیصلوں کے حوالے بھی دیئے اور اس بات پر اصرار کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کا کردار ججز کے تقرر میں عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے اور عدلیہ کی آزادی کی ضمانت بنیادی آئینی ڈھانچے میں دی گئی ہے آئین کے دیباچے آرٹیکل 2Aسمیت کئی دیگر آرٹیکلز میں اس کی ضمانت دی گئی ہے یہ درست ہے کہ پارلیمنٹ ترمیم کرسکتی ہے مگر اس میں بھی اس کا کردار محدود ہے لامحدود نہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ مادر پدر ترمیم کرلے اور عوام بھی اس کو قبول کرے ابھی ان کے دلائل جاری تھے کہ عدالت کا وقت ختم ہونے کے باعث مقدمے کی مزید سماعت جمعرات تک کیلئے ملتوی کردی گئی اور حامد خان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وقفے سے پہلے وہ اپنے دلائل مکمل کریں آرٹیکلز 225پر دلائل دیں اور اس کے بعد اٹھارہویں ترمیم پر دلائل مکمل ہونے کے بعد ہی اکیسویں ترمیم پر دلائل کا آغاز کیاجائے گا ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…