بنیادی ڈھانچہ اور عدلیہ کی آزادی یہ دو ایسے کردار ہیں جن کو اگر نکال دیاجائے تو کوئی بھی کام اپنی اصل حالت میں قائم نہیں رہے گا ۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ہم پہلے اٹھارہویں ترمیم پر بحث مکمل کرینگے اس کے بعد اکیسویں ترمیم پر بحث کا آغاز ہوگا ۔ آپ کوشش کریں اگلے روز وقفے سے قبل اپنے دلائل مکمل کریں حامد خان نے کہا کہ بنیادی آئینی ڈھانچے کا معاملہ پارلیمنٹ کمیٹی کی ججز کی تقرری میں کردار اتنے وسیع موضوع ہیں کہ جن پر بحث طویل ہوسکتی ہے ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اس سوال کا جواب دیں کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں ترمیم کسی مینڈیٹ کے بغیر لائی جاسکتی ہے کیا یہ موجودہ اسمبلی ایسا کرسکتی ہے کیا اس کے لئے نئی اسمبلی کی ضرورت نہیں پڑے گی پارلیمنٹ اور دستور ساز اسمبلی میںفرق کیا جانا ضروری ہے موجودہ پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کا تو اختیار ہے مگر آئین سازی کا نہیں اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ قوم نئی پارلیمنٹ کے ذریعے آئین تبدیل کرسکتی ہے آئین کو تبدیل کرنے میں کوئی پابندی نہیں ہے اس پر حامد خان نے کہا کہ یہ تو معاملات دیکھنے ہونگے کہ کس طرح یہ تبدیلیاں ہوسکتی ہیں ۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ یہ درست ہے کہ یہ عدالت آئین کی محافظ ہے مگر دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا ہم کثرت رائے سے ہونے والے فیصلوں کو مسترد یا رد کرسکتے ہیں ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئین میں ترمیم سے پہلے عوام کی رائے جاننا بے حد ضروری ہے کیونکہ جب تک ان کی رائے معلوم نہیں ہوگی تبدیلی کیسے آئے گی ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ آئین کے محافظ صرف ہم ہی ہیں اصل محافظ وہ ہیں جن کو عوام منتخب کرکے پارلیمان میں لاتی ہے ۔ نمائندے عوام کی منشاءکے مطابق ترمیم کریں تو وہ دوبارہ منتخب ہوسکتے ہیں حامد خان نے پارلیمانی کمیٹی کے کردار عدلیہ کی آزادی بارے کئی دیگر ممالک کے عدالتوں کے فیصلوں کے حوالے بھی دیئے اور اس بات پر اصرار کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کا کردار ججز کے تقرر میں عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے اور عدلیہ کی آزادی کی ضمانت بنیادی آئینی ڈھانچے میں دی گئی ہے آئین کے دیباچے آرٹیکل 2Aسمیت کئی دیگر آرٹیکلز میں اس کی ضمانت دی گئی ہے یہ درست ہے کہ پارلیمنٹ ترمیم کرسکتی ہے مگر اس میں بھی اس کا کردار محدود ہے لامحدود نہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ مادر پدر ترمیم کرلے اور عوام بھی اس کو قبول کرے ابھی ان کے دلائل جاری تھے کہ عدالت کا وقت ختم ہونے کے باعث مقدمے کی مزید سماعت جمعرات تک کیلئے ملتوی کردی گئی اور حامد خان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وقفے سے پہلے وہ اپنے دلائل مکمل کریں آرٹیکلز 225پر دلائل دیں اور اس کے بعد اٹھارہویں ترمیم پر دلائل مکمل ہونے کے بعد ہی اکیسویں ترمیم پر دلائل کا آغاز کیاجائے گا ۔
آئین کے اصل محافظ ہم نہیں بلکہ وہ ہیں جن کو عوام منتخب کرکے پارلیمان میں لاتی ہے،سپریم کورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موبائل ایپ سے سستا پیٹرول حاصل کرنے کا طریقہ اور شرائط سامنے آگئیں
-
ہماری کمپنی کے 22 کروڑ ڈالر واجبات ادا کیے جائیں، چین کا مبینہ مطالبہ
-
خاتون ٹک ٹاکر سے مبینہ زیادتی کی کوشش، حکیم شہزاد لوہا پاڑ گرفتار
-
ایسا فیصلہ دیں گے جو پاکستان ہلا کر رکھ دے گا،جسٹس ہاشم کاکڑ
-
’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘
-
وفاقی حکومت پیٹرول کی قیمت پر عوام کے ساتھ ہاتھ کرگئی
-
امریکی طیاروں کی تباہی کے بعد اسرائیل کا ایران پر حملے روکنے کا اعلان
-
ایرانی ریال کی قدر میں جنگ کے باوجود بڑا اضافہ، وجہ سامنے آگئی
-
بابا وانگا کی خوفناک پیشگوئیاں! حقیقت یا افواہ؟
-
ایل پی جی کی فی کلو قیمت ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی
-
سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودیہ نے پاکستانی مسا فروں کیلئے اہم فیچرمتعارف کرادیا
-
سڑک اچانک پھٹی، کار خاتون ڈرائیور سمیت دھنس گئی!
-
پیٹرول پر رعایت حاصل کرنے کا طریقہ کار سامنے آگیا
-
عوام کے لیے بڑی خبر: نئی طرح کے میٹر متعارف کروانے کا فیصلہ



















































