اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیپال میں آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آنا شروع ہوگئی ہے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے 41 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زائد رقم درکار ہے۔ نیپال میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بدبو اور تعفن کے باعث لوگ ماسک لگا کر روزمرہ کے کاموں میں حصہ لے رہے ہیں ،لوگوں نے صبح کے اوقات میں عبادت گاہوں کا رخ کرنا شروع کردیا ہے،دربار اسکواِئر کے کچھ حصوں سے ملبہ اٹھا لیا گیا ہے۔ یونیسکو کی جانب سے ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے والا دربار اسکوائر زلزلے میں شدید متاثر ہوا تھا،ماہرین آثارقدیمہ کا کہنا ہے کہ یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی روثہ قرار دئیے جانے والی عمارتوں کو گزشتہ حالت میں لانے کےلئے کروڑوں ڈالر اور کئی سال کا عرصہ درکار ہے۔ نیپال کی 80 سالہ تاریخ کے بد ترین زلزلے نے بچوں کے ذہن پر ایسے اثرات مرتب کیے ہیں جن سے نکلنے کے لیے وقت لگے گا، کٹھمنڈو کے عارضی کیمپوں میں بچے اس صدمے کو بھلانے کے لیے کھیلتے کودتے نظرآئے۔ زلزلے کے نتیجے میں 1 کروڑ 70 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ ادھر کھٹمنڈو کے مشرقی گاوں سے برفانی تود ے میں دبے 100 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔ علا وہ ازیں نیپال میں آنے والے تباہ کن زلزلے کو 11 دن گزر جانے کے باوجود امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھیں امدادی سامان کی اتنی مقدار میسر نہیں جتنی متاثرین کی مدد کے لیے درکار ہے۔25 اپریل کو ریکٹر سکیل پر 7.8 کی شدت کے زلزلے سے اس جنوبی ایشیائی ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور اب تک سات ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور دس ہزار کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔اس وقت دنیا بھر سے4,000 سے زائد امدادی کارکن متاثرین کی مدد کے لیے نیپال میں موجود ہیں۔نیپالی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں جاری امدادی کارروائیوں کو مربوط بنانے اور اس سے متعلقہ صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب ہو رہی ہے۔تاہم دارالحکومت کھٹمنڈو کے شمال مشرق میں چتارا کے علاقے میں دو دن گزرانے والے بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لوگ اب بھی امداد کے منتظر ہیں اور ان کی بےتابی میں اضافہ ہو رہا ہے۔برطانوی امدادی ادارے ڈِزاسٹرز ایمرجنسی کمیٹی (ڈی ای سی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں متاثرین کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔12 خیراتی اداروں پر مشتمل اس تنظیم کا کہنا ہے کہ نیپال کے زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔برطانوی امدادی ادارے ڈی ای سی کے ترجمان نے بتایا کہ انھیں اسہال اور سینے میں انفیکشن کی متعدد رپورٹیں پہلی ہی موصول ہو چکی ہیں۔
نیپال میں زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آنا شروع ہو گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موبائل ایپ سے سستا پیٹرول حاصل کرنے کا طریقہ اور شرائط سامنے آگئیں
-
ہماری کمپنی کے 22 کروڑ ڈالر واجبات ادا کیے جائیں، چین کا مبینہ مطالبہ
-
خاتون ٹک ٹاکر سے مبینہ زیادتی کی کوشش، حکیم شہزاد لوہا پاڑ گرفتار
-
پنجاب میں 94 غیر قانونی اور جعلی یونیورسٹیاں، فہرست سامنے آ گئی
-
ایسا فیصلہ دیں گے جو پاکستان ہلا کر رکھ دے گا،جسٹس ہاشم کاکڑ
-
’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘
-
ایرانی ریال کی قدر میں جنگ کے باوجود بڑا اضافہ، وجہ سامنے آگئی
-
وفاقی حکومت پیٹرول کی قیمت پر عوام کے ساتھ ہاتھ کرگئی
-
امریکی طیاروں کی تباہی کے بعد اسرائیل کا ایران پر حملے روکنے کا اعلان
-
بابا وانگا کی خوفناک پیشگوئیاں! حقیقت یا افواہ؟
-
سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودیہ نے پاکستانی مسا فروں کیلئے اہم فیچرمتعارف کرادیا
-
سڑک اچانک پھٹی، کار خاتون ڈرائیور سمیت دھنس گئی!
-
پیٹرول پر رعایت حاصل کرنے کا طریقہ کار سامنے آگیا
-
ایل پی جی کی فی کلو قیمت ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی



















































