پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

دنیا بھر میں پانی کی شدید قلت کے حوالے سے 17 ممالک کو انتہائی خطرات لاحق نیویارک ٹائمزنے پاکستان سے متعلق بھی اہم انکشاف کردیا

datetime 29  اگست‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن )پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے ۔پانی زمین کی سطح کے کے لگ بھگ 71 فیصد حصہ پر محیط ہے ،تاہم زمین پر بسنے والے افراد کیلئے مجموعی طور پر محض3فیصد تازہ پانی ہی دستیاب ہے۔تازہ پانی کے دستیاب یہ محدود وسائل متعدد مختلف وجوہات اور

آبادی میں اضافے،ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تغیرات جیسے عوامل کے باعث شدید خطرے سے دوچار ہیں۔پانی کی یہ قلت ایک عالمی مسئلہ اختیار کرچکی ہے جس نے تمام براعظموں میں اربوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔جنوب ایشائی ممالک جو کہ بین الاقوامی آبی گذر گاہوں کا بڑا مسکن ہیں،بتدریج پانی کی قلت کی جانب بڑھ رہے ہیں اور آنے والے برسوں میں پانی کی اس قلت میں شدت متوقع ہے ۔نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں پانی کی شدید قلت کے حوالے سے 17 ممالک کو انتہائی خطرات لاحق ہیں،جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ممالک وہ تمام پانی استعمال کررہے ہیں جو کہ ان کے پاس موجود ہے ۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی پانی کی قلت کے دہانے پر ہے جہاں پانی کی سالانہ فی کس دستیابی قلت کی دہلیز چھونے کے قریب ہے ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان سال 2025 تک مکمل طور پر آبی قلت کا شکار ہوسکتا ہے ۔ملک میں اس وقت فی کس پانی کی دستیابی انتہائی کم ہے جس کی اہم وجہ موجودہ زرعی طریقہ کار بتائے جاتے ہیں جو کہ ملک میں دستیاب پانی کا 92 فیصد خرچ کر ڈالتے ہیں،اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کے دستیاب وسائل میں بد انتظامی اس صورتحا ل کو مزید گھمبیر کررہے ہیں۔زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے پانی کا تقریبا نصف زیر زمین سے آتا ہے کیونکہ یہ موسمی دستیابی سے مشروط نہیں ہے ،اگرچہ یہ پانی کے حصول کا ایک آسانی ذریعہ ہے ،تاہم حالیہ برسوں میں اس کے استعمال میں اضافے کے باعث زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوئی ہے،خاص کر پنجاب و سندھ میں کہ جہاں بڑے پیمانے پر زراعت کی جاتی ہے ۔پانی کے اس بے تحاشہ حصول نے سندھ طاس کو دنیا میں دوسرا دباو والا زیر زمین ذریعہ بنا دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…