بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

دنیا بھر میں پانی کی شدید قلت کے حوالے سے 17 ممالک کو انتہائی خطرات لاحق نیویارک ٹائمزنے پاکستان سے متعلق بھی اہم انکشاف کردیا

datetime 29  اگست‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن )پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے ۔پانی زمین کی سطح کے کے لگ بھگ 71 فیصد حصہ پر محیط ہے ،تاہم زمین پر بسنے والے افراد کیلئے مجموعی طور پر محض3فیصد تازہ پانی ہی دستیاب ہے۔تازہ پانی کے دستیاب یہ محدود وسائل متعدد مختلف وجوہات اور

آبادی میں اضافے،ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تغیرات جیسے عوامل کے باعث شدید خطرے سے دوچار ہیں۔پانی کی یہ قلت ایک عالمی مسئلہ اختیار کرچکی ہے جس نے تمام براعظموں میں اربوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔جنوب ایشائی ممالک جو کہ بین الاقوامی آبی گذر گاہوں کا بڑا مسکن ہیں،بتدریج پانی کی قلت کی جانب بڑھ رہے ہیں اور آنے والے برسوں میں پانی کی اس قلت میں شدت متوقع ہے ۔نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں پانی کی شدید قلت کے حوالے سے 17 ممالک کو انتہائی خطرات لاحق ہیں،جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ممالک وہ تمام پانی استعمال کررہے ہیں جو کہ ان کے پاس موجود ہے ۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی پانی کی قلت کے دہانے پر ہے جہاں پانی کی سالانہ فی کس دستیابی قلت کی دہلیز چھونے کے قریب ہے ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان سال 2025 تک مکمل طور پر آبی قلت کا شکار ہوسکتا ہے ۔ملک میں اس وقت فی کس پانی کی دستیابی انتہائی کم ہے جس کی اہم وجہ موجودہ زرعی طریقہ کار بتائے جاتے ہیں جو کہ ملک میں دستیاب پانی کا 92 فیصد خرچ کر ڈالتے ہیں،اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کے دستیاب وسائل میں بد انتظامی اس صورتحا ل کو مزید گھمبیر کررہے ہیں۔زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے پانی کا تقریبا نصف زیر زمین سے آتا ہے کیونکہ یہ موسمی دستیابی سے مشروط نہیں ہے ،اگرچہ یہ پانی کے حصول کا ایک آسانی ذریعہ ہے ،تاہم حالیہ برسوں میں اس کے استعمال میں اضافے کے باعث زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوئی ہے،خاص کر پنجاب و سندھ میں کہ جہاں بڑے پیمانے پر زراعت کی جاتی ہے ۔پانی کے اس بے تحاشہ حصول نے سندھ طاس کو دنیا میں دوسرا دباو والا زیر زمین ذریعہ بنا دیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…