جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

کرائسٹ چرچ کی مساجد پر کئے گئے حملوں کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز ہو گیا

datetime 13  مئی‬‮  2019 |

کرائسٹ چرچ (این این آئی)نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کی مساجد پر کیے گئے حملوں کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز ہو گیا ہے ۔ تفتیش کے لیے قائم رائل کمیشن نے پیر کو ثبوت اکھٹے کرنے کا کام شروع کیا ۔رائل کمیشن کو نیوزی لینڈ میں تحقیقات کا سب سے اعلی فورم سمجھا جا تا ہے ۔ یہ فورم ان عوامل اور محرکات کی جانچ پڑتال کرے گا جن کی وجہ سے 15 مارچ کو ایک حملہ آور نے دو مساجد پر

حملے کر کے 51 لوگوں کو شہید کیا تھا۔ فرانسیسی خبر رساں ادراے اے ایف پی کے مطابق تفتیش سے یہ پتہ لگایا جائے گا کہ آیا نیوزی لینڈ کی پولیس اور انٹیلی جنس حملے کو روک سکتی تھی یا نہیں ۔ رائل کمیشن کی تحقیقات کی تفصیلات نتائج 10 دسمبر تک رپورٹ کی شکل اختیار کریں گی تاہم تفتیش کے دوران عوام کی حفاظت کے لیے اہم معلومات مقررہ تاریخ سے قبل دی جا سکتی ہیں ۔نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم جیسنڈا ارڈن کا کہنا تھا ، یہ حملے کے جواب میں ہماری کاروائی کا اہم حصہ ہے۔ کمیشن کے نتائج ہمیں اس بات کی یقین دہانی کرنے میں مدد کریں گے کہ آئندہ یہاں ایسے حملے کبھی نہ ہوں۔نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے کا بعد ملک کے انٹیلی جنس ادارے تنقید کی زد میں آئے کہ انہوں نے اپنی توجہ صرف اسلام کے نام پر پھیلائی جانے والی دہشت گردی پر رکھی اور سفید فام دائیں بازو کی انتہاپسندی کو نظر انداز کیا۔کرائسٹ چرچ حملے کے تمام متاثرین مسلمان تھے اور ان کا قتلِ عام مبینہ طور پر ایک ایسے سفید فام شخص کی طرف سے کیا گیا جو اس بات کو مانتا تھا کہ مسلمان مغربی ممالک پرقبضہ کرنا چاہتے ہیں۔حملہ آور برنٹن ٹیرنٹ اٹھائیس سال کا سفید فام شخص تھا، جس کی ذہنی حالت کا معائنہ جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔رائل کمیشن حملے سے پہلے برنٹن ٹیرنٹ کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے گا جس میں ملزم کے سوشل میڈیا کے استعمال کو بھی دیکھا جائے گا ۔کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملوں کے بعد نیوزی لینڈ کی حکومت نے ملک میں اسلحہ رکھنے کے قانون کو سخت کر دیا ہے اور نفرت انگیز تقاریر کے قانون کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کمپنیوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ آن لائن شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اقدامات بڑھائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…