جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

عمران کی فتح تبدیلی کی نوید ہے اور ۔۔! امریکی محکمہ خارجہ کی پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کے سابق ڈائریکٹر مچل بی ری ایس کا تجزیہ ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 21  اگست‬‮  2018 |

واشنگٹن(آئی این پی ) امریکہ کے سابق پالیسی ساز اور میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی عام انتخابات2018 میں فتح تبدیلی کی نوید ہے ، اس کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ پاک امریکہ سیکیورٹی تعلقات میں بہتری کے لئے کیا اقدامات کرتے ہیں ،اس سلسلے میں وہ کامیاب ہو پاتے ہیں یاپھر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی فضاء برقرار رہتی ہے ، یہ ان کے لئے ان کے لئے بڑا چیلنج ہے ،

پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی قوت ہے بلکہ افغان جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بھی ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کا اہم اتحادی ہونے کے باعث پاکستان میں 60 ہزار سے زائد بے گناہ پاکستانیوں کی شہادت ہو چکی ہے ۔ معروف امریکی اخباردی ہل کی رپورٹ میں امریکی محکمہ خارجہ کی پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کے سابق ڈائریکٹر مچل بی ری ایس نے پاکستان میں تحریک انصاف کی عام انتخابات میں فتح اور پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے اپنے مضمون میں لکھاہے کہ خطے کو پر امن بنانا ٹرمپ انتظامیہ کے لئے بھی بہت بڑا چیلنج ہو گا ۔ القاعدہ اور انتہا پسند تنظیمیں پاکستان اور افغانستان دونوں کے لئے خطرہ ہیں اس لئے دونوں ممالک کو شدت پسند تنظیموں کے خاتمے کے لئے نئے سرے سے کام کرنا ہو گا ۔ دوسری جانب پاکستان کی شدید خواہش ہے کہ امریکہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کردار ادا کرے جب کہ امریکہ براہ راست کردار ادا کرنے کی بجائے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر سمیت دیگر دو طرفہ مسائل کے حل پر زور دیتا آیا ہے ۔ امریکہ ڈاکٹر قدیر خان خان کی جانب سے مبینہ طور پر ایٹمی مواد کی دیگر ممالک میں منتقلی پر بھی تحفظات کا ا ظہار کر چکا ہے اس صورتحال میں امریکی کانگریس کی مدد سے پاکستان کو لڑاکا طیاروں اور تعاون کی مدد میں فوجی سازو سامان کی ترسیل ممکن ہوئی ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اسی تناظر میں پاکستانی سیکیورٹی افسران پرانٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اور ٹریننگ کورس میں شرکت کرنے پر قدغن عائد کی ۔

جس باعث دو طرفہ تعلقات میں تناؤ آیا ، پاکستانی حکومت امریکہ یہ باور کراتی آئی ہے کہ نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں القاعدہ کی 95 فیصد قیادت پاکستانی کوششوں سے ہلاک ہوئی ۔ پاکستان امریکہ سے یہ شکایت بھی کرتا ہے کہ افغانستان میں قیام امن نہ ہونے کے باعث پاکستان کو اپنے روایتی حریف بھارت کے ساتھ مشرقی بارڈر کے ساتھ ساتھ افغانستان کے ساتھ مغربی بارڈر پر بھی دشواریوں کا سامنا ہے ۔اس ساری

سیکیورٹی صورتحال کے علاوہ پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان کو ملک کی ابتر معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کا چیلنج بھی درپیش ہو گا چونکہ وہ اپنے انتخابی منشور کو قابل عمل بنانا چاہتے ہیں تاکہ جمہوریت کو فروغ حاصل ہو ۔ پاکستان کے امریکہ میں نئے مقرر کیے جانے والے سفیر علی جہانگیر صدیقی نئی نسل کے ترجمان کے طور پر دیکھے جانے میں اپنی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لئے بھرپور محنت درکار ہو گی ۔ لہذا ٹرمپ انتظامیہ کو کسی طور پر بھی پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…