منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کاکروچ پالنے کو صنعت کا درجہ دے دیا گیا، چین میں بڑے پیمانے پر ان کی افزائش کیوں کی جا رہی ہے؟ کاکروچ کو کیسے پالا جا رہا ہے؟

datetime 1  مئی‬‮  2018 |

بیجنگ(نیوز ڈیسک)چین میں لال بیگ پالنے کوصنعت کا درجہ مل گیا، چین میں ان کی بڑے پمیانے پر افزائش کی جا رہی ہے،دواساز کمپنی ہر سال 600 کروڑ کاکروچ کی افزائش کرتی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابقچین میں لال بیگ پالنے کوصنعت کا درجہ مل گیا، چین میں ان کی بڑے پمیانے پر افزائش کی جا رہی ہے،دواساز کمپنی ہر سال 600 کروڑ کاکروچ کی افزائش کرتی ہے۔ کاکروچ یا لال بیگ کسی کو بھلے ہی پسند نہ ہوں یا پھر اسے دیکھ کر کسی کی چیخ نکل جاتی ہو لیکن چین کے باشندوں کے لیے

یہ کمائی کا ذریعہ ہے۔ممکنہ طور پر طبی خصوصیات کے حامل ہونے کے باعث لال بیگ چینی صنعت کے لیے کاروبار کے نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔چین کے ساتھ کئی ایشیائی ممالک میں کاکروچ کو تل کر کھایا جاتا ہے لیکن اب چین میں ان کی بڑے پمیانے پر افزائش کی جا رہی ہے۔چین کے شیچانگ شہر میں ایک دواساز کمپنی ہر سال 600 کروڑ کاکروچ کی افزائش کرتی ہے۔ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق ایک عمارت میں ان کی افزائش کی جا رہی اور اس عمارت کا رقبہ تقریباً دو کھیل کے میدانوں کے برابر ہے۔وہاں الماریوں کی پتلی قطاروں میں انھیں پالا جاتا ہے اور ان کے لیے کھانے اور پانی کا انتظام کیا جاتا ہے۔عمارت میں اندھیرا رکھا جاتا ہے اور ماحول میں مصنوعی گرمی اور رطوبت برقرار رکھی جاتی ہے تاکہ یہاں کیڑوں کو گھومنے اور تولید کی سہولیات فراہم رہیں۔انھیں سورج کی روشنی سے دور رکھا جاتا ہے اور انھیں اس عمارت سے باہر نہیں جانے دیا جاتا ہے۔مصنوعی انٹیلیجنس کے نظام کے ذریعے کاکروچ کی افزائش پر نظر رکھی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے عمارت میں درجہ حرارت، خوراک کی دستیابی اور نمی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔اس کا مقصد کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کاکروچ پیدا کرنا ہے۔جب کاکروچ بڑے ہو جاتے ہیں تو انھیں کچل دیا جاتا ہے اور شربت کی شکل میں اس کا چین میں روایتی انداز میں دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کا استعمال قے، دست، پیٹ کے زخم، سانس کی تکلیف اور دیگر بیماریوں کے علاج میں کیا جاتا ہے۔شانڈانگ ایگریکلچر یونیورسٹی کے پروفیسر اور انسیٹ ایسوسی ایشن آف شانڈانگ کے ڈائریکٹر لیووشینگ نے دی ٹیلیگراف اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واقعی ‘وہ ایک کرشمائی دوا ہیں۔’انھوں نے مزید کہا: ‘وہ کئی بیماریوں کا علاج ہیں اور دیگر دواؤں کے مقابلے میں وہ زیادہ تیزی کے ساتھ اثر کرتے ہیں۔’پروفیسر لیو کہتے ہیں کہ بڑی عمر والوں کی زیادہ آبادی چین کا مسئلہ ہے۔

ہم لوگ نئی ادویات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ مغربی ممالک کی ادویات سے سستی ہوں گی۔’ادویات کے لیے کاکروچ کی پیداوار سرکاری منصوبوں کا حصہ ہے اور ہسپتالوں میں اس سے بننے والی دواؤں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔لیکن بہت سے لوگ اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ بیجنگ کے چائنیز اکیڈمی آف میڈیکل سائنس کے ایک محقق نے اپنا نام نہ شائع کرنے کی شرط پر

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو بتایا: ‘کاکروچ کا شربت بیماریوں کا علاج نہیں ہے۔ یہ تمام بیماریوں پر کرشمائی انداز میں اثر نہیں کرتا ہے۔’انھوں نے کہا کہ اس طرح کیڑوں کی ایک بند جگہ میں پیداوار خطرناک ہو سکتی ہے۔چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے پروفیسر جھووڈانگ کہتے ہیں کہ ‘اگر انسانی غلطی یا پھر زلزلے کی وجہ سے اربوں کاکروچ باہر آ جائیں، تو یہ تباہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…