بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

’’پاکستان پر پابندی‘‘ امریکہ نے تباہ کن فیصلے کا اعلان کر دیا

datetime 13  اگست‬‮  2017 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سینیٹر جان میک کین نے کافی عرصے سے زیر بحث رہنے والی نئی افغان حکمت عملی کا اعلان کردیا جس کے مطابق پاکستان کو سفارتی، فوجی اور معاشی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس نئی حکمت عملی کے مطابق اگر پاکستان طالبان کی مبینہ مدد اور افغانستان میں انتشار پھیلانے والے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا رہا تو اسے بھی پابندیوں کا

سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔نئی حکمت عملی میں آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ترامیم شامل ہیں جس کے مطابق مزید امریکی فوجی اہلکاروں کو انسداد دہشت گردی کے مشن کے لیے تعینات کیا جائے گا۔افغانستان کے لیے نئی حکمت عملی امریکی حکام کو افغان افسران کے ساتھ کام کرنے کا موقع دے گی جس کے مطابق امریکی افواج طالبان، داعش اور دیگر تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرسکتی ہیں۔امریکی سینیٹر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ امریکا کے کچھ سابق اور انتہائی تجربہ کار فوجی اہلکاروں اور خفیہ اداروں کے حکام نے بھی نئی افغان حکمت عملی بنانے میں مدد فراہم کی۔افغانستان سے متعلق حکمت عملی میں پاکستان پر نئی پابندیوں کے خطرات کے علاوہ پاک-امریکا طویل المدت شراکت داری کے فوائد کو بھی نمایاں کیا گیا، جو تب ہی ممکن ہو سکتا ہے۔جب پاکستان طالبان کو مبینہ مدد فراہم کرنا بند کرے اور افغان تنازع کو حل کرنے کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرے۔امریکی سینیٹر کی جانب سے پیش کردہ حکمت عملی میں افغانستان سمیت خطے میں موجود دیگر ریاستوں کے ساتھ مذاکرات کی تجویز دی گئی جن میں پاکستان، چین، بھارت، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان شامل ہیں۔گذشتہ ماہ امریکی محکمہ دفاع نے ایک رپورٹ جاری کی تھی ۔جس میں افغانستان کی سیکیورٹی اور استحکام کا جائزہ لیا گیا تھا جبکہ اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا تھا کہ پاکستان، افغانستان کی

صورتحال پر اثر انداز ہونے والا سب سے با اثر بیرونی عنصر ہے جس سے افغانستان کا امن متاثر ہوتا ہے اور نیٹو افواج اپنے اہداف مکمل نہیں کر پاتے۔امریکی سینیٹر جان میک کین نے قانون سازوں کی اپنی ٹیم کے ہمراہ گذشتہ ماہ پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا تھا اور اپنے اس دورے کے دوران میک کین نے پاکستانی میڈیا کو ایک انٹرویو میں خطے میں امن عمل کے سلسلے میں امریکا کے لیے پاکستان کی اہمیت پر زور دیا تھا۔نئی

افغان حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سینیٹر نے سابق صدر باراک اوباما اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ کی حکمت عملی نے امریکا کو اپنے اہداف سے پیچھے دھکیل دیا جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے گذشتہ 7 ماہ کے دوران امریکا کوکوئی حکمت عملی ہی حاصل نہیں ہوسکی جس کے باعث حالات کشیدگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔جان میک کین کا کہنا تھا کہ اس نئے منصوبے کا

مقصد یہ اطمینان کرنا ہے کہ آئندہ کبھی بھی افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بن سکے جہاں سے دہشت گرد امریکا، اس کے اتحادیوں یا پھر اس کے مفادات کے خلاف کارروائی کر سکیں۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…